پی ٹی آئی دہشت گروں کیساتھ ہے، نیشنل ایکشن پلان پر کارروائی کسی کا باپ نہیں روک سکتا، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ دہشت گروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، نیشنل ایکشن پلان پر ہونے والی کارروائی کسی کا باپ نہیں روک سکتا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ میں زائرین سے بات چیت کے لئے کراچی جارہا ہوں، کچھ نکات پر ہم قریب آئے ہیں، حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ اس سفر کو ممکن اور آسان بنایا جائے، فلائٹس بڑھائی ہیں، غیر ملکی ایئرلائنز کو اجازت بھی ہے، کوشش کریں گے کہ اس مسئلے کو حل کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جرات ہی نہیں کہ اسمبلی کا استحقاق مجروع کریں، دفعہ 144 تھی ، یوم استحصال کا دن منایا جارہا تھا، اسی دوران احتجاج کی کال تھی، پارلمنٹ کے اندر سے باہر جانے کے لئے دوسرے گیٹس کھلے تھے۔
طلال چوہدری نے سابق اسپیکر اسد قیصر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج ہر ایک کا حق ہے، اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی ایک درخواست ڈاک سے پہنچی، اسلام آباد میں 100 سے کم لوگ نکلے، پنجاب میں 954 لوگ نکلے، اسلام آباد میں کسی ممبر کو ہم نے ٹچ نہیں کیا، راستے کھلے تھے، گیٹ کھلے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بار بار کہتے ہیں بڑا پاپولر لیڈر ہے، شیطان بھی بڑا پاپولر ہے، 9 مئی کس نے کیا، سب کو پتہ ہے، پی ٹی آئی نے کیا، انہی لوگوں نے ٹکٹ لینے کے لئے وہ آگ لگائی۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق اسپیکر نے کہا کوئی آپریشن نہیں ہونے دیں گے، کوئی نیا آپریشن نہیں ہو رہا ہے، جو وزیر اعلی بھتہ دیں وہ کیا لڑیں گے، آپ کس کے ساتھ کھڑے ہیں، دہشگردوں کے ساتھ یا پاکستان کے ساتھ ؟
آپ دہشتگروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، نیشنل ایکشن پلان پر ہونے والی کارروائی کسی کا باپ نہیں روک سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔