صرف ایک ماہ میں برآمدات میں 9 فیصد اضافہ انتہائی تسلی بخش ہے؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صرف ایک ماہ میں برآمدات میں 9 فیصد اضافہ انتہائی تسلی بخش ہے، برآمدات پر مبنی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نئے مالی سال کے پہلے ہی مہینے میں پاکستان کی برآمدات 2.7 ارب امریکی ڈالرز تک پہنچنے پر اظہار اطمینان کیا ہے، کہنا ہے کہ جولائی 2024 تا جولائی 2025 ، برآمدات میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں اور ترجیحات کی بدولت معاشی اشاریے درست سمت میں گامزن ہیں، حکومت کی معاشی ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔
قومی کرکٹرز کو لیگز کیلئے این او سی جاری
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ملک سے برآمدات میں اضافے ، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے۔ فیس لیس کسٹم اسیسیمینٹ سسٹم کے نفاذ سے پورٹ آپریشنز میں مزید بہتری لارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی میں ٹیکس کلیکشن کے تناسب میں اضافہ حکومت کے لیے قابل اطمینان ہے ۔ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری پاکستان کی معیشت میں استحکام کی عکاس ہے ۔
عوام پر ایک اور بل کا بوجھ ؛صفائی فیس عائد کرنے کا فیصلہ
وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے مالی سال میں ترسیلات زر کی مد میں 34.
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچنج 100 انڈیکس نے 145000 کی حد عبور کرکے حالیہ دنوں میں تاریخی کارکردگی دکھائی ہے، حکومت کی معاشی ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ حکومت ملک سے برآمدات میں اضافے ، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے ۔
غزہ پر مکمل زمینی قبضہ سے یرغمالیوں کو خطرہ ہو گا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ برآمدات میں حکومت کی
پڑھیں:
گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے گندم بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رواں سال گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پھر پنجاب اور سندھ دونوں اپنے گندم خریداری کے ہدف کا بمشکل 15 فیصد ہی حاصل کیوں نہ کرسکے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ گندم کی مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں لیکن متعلقہ اداروں نے بروقت کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سے ذخیرہ اندوز تھے جنہوں نے اس عرصے میں مارکیٹ سے بڑی مقدار میں گندم خرید کر ذخیرہ کی، جس کے باعث کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ مل سکا جبکہ صارفین بھی مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سنگین غفلت کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کو قبول کرنا ہوگی، نئے گندم سیزن میں ابھی 8 سے 9 ماہ باقی ہیں، اگر اس دوران گندم درآمد کرنا پڑی تو اس پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوگا، جس سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی تو کم از کم تقریباً 1,700 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی میں عارضی کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 21 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 56 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس نے عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث عوام مسلسل مہنگائی کے شدید جھٹکے برداشت کر رہے ہیں اور یہ اثرات تاقیامت یاد رکھے جائیں گے۔
انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں آخر کس کارکردگی کی بنیاد پر کشمیر انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگ رہی ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آنے والا نہیں بلکہ آ چکا ہے، وفاقی محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 253 فیصد، پیاز 81 فیصد، آٹا 74 فیصد، ایل پی جی 46 فیصد، پیٹرول اور ڈیزل 32 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اسی طرح حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.91 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 9.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔