پٹوار خانوں میں پرائیویٹ افراد کا غیرقانونی طور پر کام کرنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
اسلام آباد کے پٹوار خانوں میں پرائیویٹ افراد کے غیرقانونی طور پر کام کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں فوری بھرتیوں کا عمل شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے شہری کی جانب سے زمین کے لیے خسرہ گردواری نمبر جاری نہ کرنے سے متعلق کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ عدالت میں پیش کی گئی اسٹیٹ کونسل کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ پٹوار خانوں میں غیر متعلقہ اور پرائیویٹ افراد کام کر رہے ہیں، جو کہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سماعت کے دوران ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی کمشنر آفس کے ریونیو سیکشن میں بھرتیوں کے لیے رولز نوٹیفائی کیے جا چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ پرائیویٹ افراد کی موجودگی کی تحقیقات کے لیے *اسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریا* کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے۔
عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ چار ماہ گزرنے کے باوجود انکوائری کیوں مکمل نہیں ہو سکی؟ عدالت نے انکوائری افسر کو 11 اگست کو طلب کر لیا اور ہدایت کی کہ وہ پیش ہو کر بتائیں کہ اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں بھرتیوں کا باقاعدہ پلان عدالت میں جمع کرایا جائے، جبکہ کیس کی مزید سماعت 18 اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پرائیویٹ افراد
پڑھیں:
افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ
کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔