اندرون سندھ، سرکاری اسپتالوں میں اربوں روپے فراہم کرنے کے باوجود بچوں کے علاج کی سہولیات ناپید
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
کراچی:
اندرون سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں اربوں روپے فراہم کرنے کے باوجود بچوں کے علاج معالجے کی سہولتیں ناپید ہیں جہاں غریب شہری اپنے بچوں کے علاج کے لیے اپنی مویشیاں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
ایکسپریس نیوز کو كنرى ضلع عمركوت کے رہائشی امتياز گشکورى نے بتایا کہ گزشتہ دنوں میرے 10 ماه كے بیٹے غلام محمد کی حالت شدید غذائی کمی اور خسرہ وائرس کی وجہ سے تشویش ناک ہوگئی تھی، علاج کرانے کے لیے پیسے نہیں تھے لیکن اپنے بچے کی زندگی بچانے کے لیے بکری فروخت کی اور مٹھی اور كنرى کے ڈاکٹروں سے علاج كروايا لیکن میرے بیٹے کی حالت مزید خراب ہوگئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد اپنے بیٹے کو عمرکوٹ سے میرپور خاص شہر کے ایک نجی اسپتال پہنچایا، اسی دوران وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے اپنے بیٹے کے علاج کے لیے درخواست بھیجی جس پر وزیراعلی سندھ نے میرپور خاص کے کمشنر فیصل احمد عقيلى اور صوبائی محکمہ صحت کے تعینات سول سرجن میرپور خاص ڈاکٹر پیر غلام نبی شاہ جيلانى کو كنرى ضلع عمركوٹ میں میرے بچے غلام محمد کے علاج کے لیے فوری ہدايات ديں ۔
انہوں نے بتایا کہ کمشنر میرپور خاص فيصل احمد عقيلى كى ہدايت پر سول سرجن میرپور خاص ڈاکٹر پیر غلام نبی جيلانى نے نجی اسپتال پہنچ کر مجھ سے اور اسپتال کے ڈاکٹروں سے رابطہ کیا، جس پر ڈاکٹر پیر غلام نبی شاہ نے متعلقہ بچے کے ڈاکٹر عبدالمجيد ميمن سے علاج معالجے کے حوالے سے بریفننگ بھی لی اور اپنى نگرانى مين علاج كروايا۔
بچے کے والد نے بتایا کہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ،کمشنر میرپور خاص اور سول سرجن ڈاکٹر پیر غلام نبی شاہ جيلانى کی بروقت کارروائی اور نگرانی کی وجہ سے میرا بیٹا اب ٹھیک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کنری عمرکوٹ اور دیگر دیہی آبادیوں میں رہنے والے بچوں کے علاج کے لیے ماہرین اطفال کو فوری تعینات کیا جائے کیونکہ یہاں کے بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں۔
اس حوالے سے سول سرجن ڈاکٹر پیرغلام نبی نے بتایا کہ بچے کو شدید نوعیت کا خسرہ اور اس کی پیچیدگیاں ہوگئی تھیں کیونکہ غربت كى وجه سے بچہ غذائی قلت کا بھی شکار تها اور ديگر وجوہات سے خسرہ کی پیچیدگیاں سامنے آئيں اور سول سرجن كی ہدايت پر تعلقه اسپتال کنرى پر موجود غذائی مركز او ٹی پی پر بچے کا خوراک کى قلت كا علاج شروع كيا۔
ڈاکٹر غلام نبی کا کہنا تھا کہ سرد موسم شروع ہوگیا اس میں غذائی کمی کا شکار بچے خسرہ وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں لہٰذا والدین اپنے بچوں کو خسرہ سمیت دیگر امراض سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین لازمی لگوائیں۔
انہوں نے کہا کہ سرد موسم میں بچوں میں نمونیہ اور خسرہ جیسے طبی مسائل جنم لیتے ہیں، مائیں اپنے بچوں کی خوراک کا خیال رکھیں اور حفاظتى ويكسین نه كرواكر خسرہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں لہٰذا والدین خصوصاً مائیں اپنے چھوٹے بچوں کی خوراک کا خیال رکھیں کیونکہ خوراک کی کمی سے چھوٹے بچوں میں مختلف طبی مسائل جنم لیتے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ڈاکٹر پیر غلام نبی کے علاج کے لیے بچوں کے علاج نے بتایا کہ میرپور خاص سول سرجن
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔