روس یوکرین جنگ بندی کا انحصار پیوٹن پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کا فیصلہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ہاتھ میں ہے، اور اگر انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ان سے کچھ ممکن ہوا تو وہ ضرور کریں گے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے انکشاف کیاکہ پیوٹن ان سے ملاقات کے خواہاں ہیں، اور وہ جلد اس ملاقات کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیوٹن سے جلد ملاقات کا امکان ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روس یوکرین تنازع کا خاتمہ ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور وہ جنگ رکوانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے بھی تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ روسی اور یوکرینی قیادت سے ملاقاتوں کا ارادہ رکھتے ہیں، اور ان ملاقاتوں کی تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔
دریں اثنا صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر 8 اگست تک یوکرین میں امن معاہدہ طے نہیں پایا تو روس پر نئی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
عالمی سطح پر بھی اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید نے ماسکو میں روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پیوٹن نے عندیہ دیا کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات یو اے ای میں ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ’پاگل‘ قرار دے دیا
روسی صدر نے مزید کہاکہ کئی دوست ممالک دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کروانے کے لیے کوشاں ہیں، اور اگر ایسا ہوا تو یہ ملاقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر امن معاہدہ جنگ بندی ڈونلڈ ٹرمپ روس یوکرین جنگ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر امن معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ روس یوکرین جنگ وی نیوز ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر سے ملاقات کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔