سپریم کورٹ؛بحریہ ٹاؤن کی حکم امتناع کی درخواست مسترد، وکیل کو ریفرنسز کی نقول جمع کرانے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی حکم امتناع کی درخواست مستردکردی اور وکیل کو بحریہ ٹاؤن کیخلاف ریفرنسز کی نقول جمع کرانے کا حکم دیدیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے بحریہ ٹاؤن کی حکم امتناع کی درخواست کی سماعت کی،جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ دوسری سائیڈ کو سن کر فیصلہ کریں گے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 13اگست تک ملتوی کردی، جسٹس امین الدین نے کہاکہ 13اگست کو مرکزی اور متفرق درخواستوں پر سماعت ہوگی۔
جسٹس نعیم اخترافغان نے کہاکہ آج صرف متفرق درخواست سماعت کیلئے لگی، مرکزی اپیلیں سماعت کیلئے فکس نہیں ہوئیں،نیب ریفرنسز کی کاپیاں بھی اپیلوں کے ساتھ لگائیں،عدالت نے کہا کہ ریفرنسز کی کاپیاں لگائیں تاکہ پتہ چلے اصل غبن کیا ہے،جسٹس نعیم افغان نے کہاکہ ملزمان نے نیب کے ساتھ پلی بار گین کی تھی، ملزم نے پلی بار گین میں 8پراپرٹیز نیب کو دیں،اب ملزم کہتا ہے پلی بار گین رضاکارانہ نہیں ، دباؤ کے تحت تھی،ملزم نے پلی بار گین ختم کرنے کی درخواست چیئرمین نیب کو دی ہے،عدالت نے کہاکہ پلی بار گین ختم کرنے کی درخواست کے بعد کیس پہلے جیسی سٹیج پر آگیا۔
لاہور؛مناواں میں منشیات سمگلنگ میں استعمال ہونیوالا ڈرون گر گیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بحریہ ٹاو ن کی پلی بار گین ریفرنسز کی کی درخواست نے کہاکہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔