بلدیاتی ادارے بیوروکریسی کے ماتحت، لارڈ میئر اور ضلع کونسل کا خاتمہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
سٹی42: پنجاب میں بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے بلدیاتی اداروں کو بیوروکریسی کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت لارڈ میئر اور ضلع کونسل جیسے اعلیٰ اداروں کو ختم کر دیا گیا ہے تاکہ بیوروکریسی کو فیصلہ سازی میں بالادست رکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق بلدیاتی اداروں کے بجٹ اور ہیومن ریسورس (ایچ آر) کے معاملات اب محکمہ بلدیات اور ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کے زیر انتظام ہوں گے۔بلدیاتی ادارے اپنا بجٹ براہ راست محکمہ بلدیات یا متعلقہ ڈی سی سے حاصل کریں گے۔
10 مرلہ میں 2 پودے ،1کنال میں 4 پودے لگانے کی پابندی
تمام تبادلے (ٹرانسفر پوسٹنگ) اب محکمہ بلدیات کی منظوری سے ہوں گے۔بلدیاتی اداروں کو جونیئر گریڈ تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ بلدیہ عظمیٰ لاہور اور ضلع کونسل جیسے سینئر ادارے ختم کر دیے گئے ہیں۔
نئے نظام کے مطابق بلدیاتی نمائندے اب ڈی سی یا ڈی پی او کو اپنے دفتر میں طلب نہیں کر سکیں گے۔
اس تبدیلی کے بعد بلدیاتی اداروں کی انتظامی خودمختاری میں واضح کمی آ گئی ہے جبکہ عوامی نمائندوں کے اختیارات محدود کر دیے گئے ہیں۔
د بھارت کی امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری روکنے کی میڈیا رپورٹ کی تردید
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 بلدیاتی اداروں
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔