پنجاب حکومت کی گندم کے کاشتکاروں کے لیے 100 ارب کے بلاسود قرض اور ٹارگٹڈ سبسڈی کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر گندم کے کاشتکاروں کی سپورٹ اور پیداوار میں اضافے کے لیے جامع پروگرام ترتیب دینے کی تیاری کر لی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ گندم کی بوائی سے قبل زرعی مداخل کی لاگت میں کمی اور کھاد کی وافر دستیابی یقینی بنائی جائے، جبکہ چھوٹے کاشتکاروں کو ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جائے۔ اجلاس میں گندم کے کاشتکاروں کو 100 ارب روپے کے بلاسود قرضے دینے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیں: گندم اور میدے کی قیمتوں میں بڑی کمی کے باوجود بیکری آئٹمز کی قیمتیں کم کیوں نہ ہو سکیں؟
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق، پنجاب میں بہتر پیداوار کے لیے گندم کی بروقت بوائی ضروری ہے۔ پچھلے 2 ماہ میں کاشتکاروں کو مجموعی طور پر 63 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، جبکہ کسان کارڈ کے ذریعے 50 ارب روپے کے بلاسود قرض فراہم کیے گئے۔
گندم سپورٹ پروگرام کے تحت 13 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ کسان کارڈ پراجیکٹ کی بدولت کھاد، بالخصوص ڈی اے پی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:گندم کی قیمت مقرر کرنے کا معاملہ: پنجاب کابینہ گندم کی ڈی ریگولرائزیشن پر فیصلہ کرے گی، محکمہ پرائس کنٹرول
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ گندم کے کاشتکار کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور حکومت ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق پنجاب کے کاشتکاروں کو سب سے زیادہ سہولت اور حکومتی سپورٹ حاصل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گندم مریم نواز شریف وزیراعلٰی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف کے کاشتکاروں کاشتکاروں کو ارب روپے گندم کی گندم کے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔