نئی انڈسٹریل پالیسی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس ریٹ میں کمی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: حکومت نے نئی انڈسٹریل پالیسی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس ریٹ میں کمی کا فیصلہ کر لیا۔
انڈسٹریل پالیسی کے تحت 4 برسوں میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس کی شرح کم ہو کر 5 فیصد مقرر کی جائے گی، پرائمری بیلنس سرپلس ہونے پر پانچویں سال سپر ٹیکس ختم کر دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق رواں ماہ کے داران وفاقی کابینہ سے نئی انڈسٹریل پالیسی کی منظوری لی جائے گی، مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس کیلئے کم سے کم تھریش ہولڈ 20 کروڑ سے بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔
10 مرلہ میں 2 پودے ،1کنال میں 4 پودے لگانے کی پابندی
پالیسی مسودہ میں کہا گیا ہے کہ 20 کروڑ روپے سے تھریش ہولڈ بڑھا کر 50 کروڑ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کیلئے تھریش ہولڈ 50 کروڑ روپے سے بڑھانے کی تجویز ہے۔
10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کیلئے تھریش ہولڈ بڑھا کر 1.
د بھارت کی امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری روکنے کی میڈیا رپورٹ کی تردید
نئی انڈسٹریل پالیسی میں سرمایہ کاری کا تحفظ، مینوفیکچررنگ سیکٹر کی برآمدات میں اضافہ سمیت دیگر اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نئی انڈسٹریل پالیسی پالیسی میں کی تجویز کرنے کی
پڑھیں:
حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی طلب اور دستیاب ذخائر کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں کی ضروریات پوری کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ گندم ذخائر ملک بھر کے صوبوں کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر کو صوبوں کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔
وزارت کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری درآمد کے ذریعے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامی اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت گندم درآمد کرنے سے نہ صرف آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ ممکنہ قلت اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، سپلائی چین کو مستحکم رکھنے اور عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی غذائی اجناس کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔