Express News:
2026-07-24@02:32:27 GMT

یومِ پاکستان: وہ داستان جس کا ہر لفظ لہو میں ڈوبا ہے

اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT

یہ دھرتی جو آج ہمارے قدموں تلے ہے، یہ محض مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ شہیدوں کی آنکھوں کا خواب، ماؤں کے سینوں کا دودھ، اور ان بزرگوں کی کمر کا جھکاؤ ہے جو ہجرت کی اذیت سے دہری ہوگئی۔

یہ زمین صدیوں کی غلامی کے بعد جب ہمارے حصے میں آئی تو یہ کسی سنہرے تحفے کے کاغذ میں لپٹی نہیں تھی، بلکہ اس پر لہو کے دھبے اور ہجرت کی گرد جمی ہوئی تھی۔

1947 کا وہ موسم، گویا برصغیر کی تاریخ کا دل پھٹنے کا لمحہ تھا، جب فضا میں اذان کے ساتھ چیخوں کی بازگشت بھی گونجتی تھی، اور گلیوں کے سناٹے میں قدموں کی آہٹ نہیں بلکہ ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں سنائی دیتی تھیں۔

ہجرت کے قافلے جب نکلے تو یہ سفر کسی خوشگوار منزل کا نہیں بلکہ موت اور زندگی کے بیچ لٹکتے ایک پل صراط کا تھا۔ ریلوے کے ڈبے جنہیں کبھی قہقہوں اور گیتوں نے بھر دیا تھا، اس وقت لاشوں سے اٹے ہوئے ایسے نظر آتے جیسے زندگی نے خود اپنے دروازے بند کر دیے ہوں۔ پلیٹ فارم پر رونے والی مائیں وہ تھیں جن کی گودیں خالی ہوچکی تھیں، اور جن کے آنسوؤں نے زمین کو یوں بھگویا جیسے بادل برسنے سے پہلے اپنی آخری نمی گرا دیں۔

بوڑھے بزرگ اپنی عصا ٹیکتے ہوئے گاؤں چھوڑ گئے، گویا صدیوں پرانی جڑ والا برگد اپنی بنیاد سے اکھڑ کر ہوا میں بہہ رہا ہو۔ جوانوں نے اپنی جانیں اس مٹی کے نام لکھ دیں جیسے کسی نے اپنی محبوبہ کے ہاتھ پر اپنا نام خون سے کندہ کر دیا ہو۔ عورتیں اپنی عصمت بچانے کے لیے نہریں پار کر گئیں، اور کچھ نے عزت کے تحفظ میں اپنی جان قربان کر دی، جیسے کوئی چاند خود کو اندھی رات کے منہ میں ڈال دے کہ روشنی کا تقدس قائم رہے۔

وہ بچے جو سمجھتے تھے یہ کھیل کا سفر ہے، چند ہی لمحوں میں لاشوں کے بیچ یتیمی کی سخت زمین پر جا گرے۔ گاؤں کے در و دیوار، جو کبھی محبت اور ہمسائیگی کے قصے سناتے تھے، اب جل کر سیاہ ہو چکے تھے، اور ہر اینٹ چیخ رہی تھی کہ یہ آگ محض مکانوں کو نہیں بلکہ دلوں کو جلا گئی۔

آزادی کی ہر سانس کے پیچھے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحے میں بھی یہ سوچا کہ آنے والی نسلیں آزاد فضاؤں میں سانس لیں گی۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے کفن پہنایا، وہ باپ جنہوں نے اپنے لختِ جگر کی لاش کو کندھے پر اٹھایا، وہ بہنیں جن کے بھائی قافلوں میں گم ہو گئے.

.. یہ سب قربانیاں آج بھی پاکستان کی فضاؤں میں خوشبو کی مانند رچی بسی ہیں۔

یومِ پاکستان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ یہ وطن کسی سیاسی معاہدے یا قلم کے دستخط کا صدقہ نہیں بلکہ قربانی کے ان چراغوں کا نتیجہ ہے جو اندھیروں میں جلائے گئے، اور جن کی لو آج بھی ہمارے پرچم کے سبز رنگ میں جھلملاتی ہے۔

یہ زمین اگر کبھی ہم سے سوال کرے کہ ہم نے اس کی حفاظت میں کیا کیا، تو ہمارا جواب قربانی، ایثار اور وفا کے انہی واقعات کی خوشبو سے لبریز ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ دھرتی ہماری نہیں، یہ اُن لوگوں کی امانت ہے جنہوں نے ہجرت کے رستوں پر اپنا لہو بو کر پاکستان کو ایک حقیقت بنایا۔

اے وطن! تو ان آنکھوں کی روشنی ہے جنہوں نے اندھیروں میں خواب دیکھے، تو ان دلوں کی دھڑکن ہے جنہوں نے آخری سانس تک تیرے نام کی تکبیر بلند کی۔ تیرا ہر ذرا ان قدموں کی گواہی دیتا ہے جو بھوکے پیاسے، زخمی اور نڈھال تیرے پاس آئے۔

آج اگر ہم تیری فضاؤں میں قہقہے بکھیرتے ہیں تو یہ انہی ماؤں کی دعا ہے جنہوں نے اپنی ممتا کے لال تیرے لیے قربان کر دیے۔ تیرے ہر سبز پتے میں ایک شہید کی آنکھ کا خواب ہے، ہر بہتا دریا اس لہو کا امین ہے جو تیرے رنگوں میں گھل گیا۔ اے پاکستان! تو محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، تو شہادت کی وہ تحریر ہے جو تاریخ نے اپنے ہاتھوں سے لکھی، اور جس پر ہر لفظ انسانی غیرت کے لہو میں ڈوبا ہوا ہے۔ 

اگر کبھی ہم تجھے بھول گئے تو یہ ہماری سانسوں کی سب سے بڑی بے وفائی ہوگی۔ تو ہم سے وفا کا حق مانگتا ہے اور ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ تیرے آسمان پر کبھی غیروں کا سایہ نہیں پڑنے دیں گے، کہ تو ہمارے بزرگوں کی آخری دعا کا قبول شدہ جواب ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہے جنہوں نے نہیں بلکہ نے اپنی

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک