یوم آزادی پریڈ کی ریہرسل کیلئے اسلام آباد ایئرپورٹ پر 8 روز تک مختلف اوقات میں پروازیں معطل رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگست میں مخصوص دنوں پر یوم آزادی پریڈ کی ریہرسل کے باعث اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد و روانگی عارضی طور پر معطل رہے گی۔
نوٹس ٹو ایئرمین (NOTAM) کے مطابق، 11، 12 اور 13 اگست کو رات 8 بجے سے 10 بجے تک تمام پروازیں معطل رہیں گی اور ایئرلائنز کو ہدایت دی گئی ہے کہ ان اوقات میں کوئی پرواز شیڈول نہ کی جائے۔
نوٹم میں مزید بتایا گیا ہے کہ 6 سے 9 اگست اور 11 سے 14 اگست کے دوران دن کے اوقات میں بھی پروازیں مختلف اوقات میں معطل رہیں گی، جن میں صبح 11 بجے سے دوپہر 1 بجے تک خصوصی معطلی شامل ہے۔
پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق ’’دوستی II ‘‘کا انعقاد
اتھارٹی نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ روانگی سے قبل اپنی پروازوں کے اوقات کی تصدیق کر لیں تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔ ایئرلائنز کو شیڈول میں ضروری تبدیلیاں کر کے مسافروں کو مطلع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ عارضی معطلیاں پاکستان کے 77ویں یوم آزادی کی تقریبات کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی تیاریوں کا حصہ ہیں، جو وفاقی دارالحکومت میں مکمل سرکاری تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوں گی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اوقات میں
پڑھیں:
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔