اداکارہ نرما 11 سال بعد منظرِعام پر؛ مداحوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
پاکستان کی معروف فلمی اداکارہ نرما برسوں بعد سوشل میڈیا پر جلوہ گر ہو گئی ہیں، جس پر مداحوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
نرما کو حالیہ دنوں میں ایک جم میں دیکھا گیا جہاں وہ اپنے ٹرینر کے ہمراہ ورزش کرتی نظر آئیں۔
انھوں نے گلابی رنگ کی ٹی شرٹ اور جم ٹراوزر پہن رکھا تھا اور ان کی فٹنس اور وزن میں واضح کمی دیکھی جا سکتی ہے۔
ویڈیوز میں نرما کا چہرہ بغیر میک اپ کے تھا، جو مداحوں کے لیے حیرت کا باعث بنا۔ ان کے فطری حسن کو سراہا جا رہا ہے۔
@mahershahid321is madam ko kon kon janta hae #foryou #viral #mahershahid321
♬ original sound - FUNNY VIDEO ???? - ANSARI YOYO Mیاد رہے کہ اداکارہ نرما کی آخری فلم "شیرِ لاہور" 2014 میں ریلیز ہوئی تھی، جس کے بعد وہ میڈیا اور انڈسٹری سے دور ہو گئی تھیں۔
اس دوران کئی افواہیں گردش کرتی رہیں کہ وہ ذاتی مسائل کا شکار ہیں، تاہم حالیہ ویڈیوز نے ثابت کر دیا کہ نرما نہ صرف اپنی زندگی میں خوش ہیں بلکہ صحت کا بھی خیال رکھ رہی ہیں۔
@mahershahid321is madam ko kon kon janta hae #foryou #foryoupage #fyp
♬ original sound - FUNNY VIDEO ???? - ANSARI YOYO Mمداحوں نے انسٹاگرام اور فیس بک پر ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اگر نرما واپس اسکرین پر آئیں تو یہ ایک خوش آئند لمحہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔