غزہ پر ملٹری کنٹرول؛ اسرائیلی مشیرِ قومی سلامتی نے نیتن یاہو کے منصوبے کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
غزہ پر ملٹری کنٹرول؛ اسرائیلی مشیرِ قومی سلامتی نے نیتن یاہو کے منصوبے کو مسترد کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 August, 2025 سب نیوز
غزہ (سب نیوز )اسرائیلی فوج کے سربراہ کے بعد مشیر قومی سلامتی نے بھی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے غزہ سٹی پر قبضے کے مجوزہ منصوبے کی مخالفت کر دی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے قومی سلامتی مشیر تساچی ہانیگبی نے غزہ پر مکمل فوجی قبضے کے منصوبے کو حماس کی قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کے لیے ڈئٹھ وارنٹ قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کابینہ اجلاس میں واضح کیا کہ وہ یرغمالیوں کو بچانے کی کوشش ترک کرنے کے لیے تیار نہیں اور یہ منصوبہ یرغمالیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال دے گا۔ ہم صرف دس یرغمالیوں کو بچانے کا موقع کھو دیں گے۔
مشیر قومی سلامتی نے وزیراعظم نیتن یاہو کو مشورہ دیا کہ غزہ میں مزید فوجی آپریشن اور دبا سے حماس کے مطالبات نرم نہیں ہوں گے۔ ہمیں جنگ بندی مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔یاد رہے کہ اسرائیلی سلامتی کابینہ نے غزہ سٹی پر مکمل ملٹری کنٹرول کی منظوری دی چکی ہے حالانکہ اسرائیلی فوج کے سربراہ چیف آف اسٹاف جنرل ایال زمیر اور خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے بھی اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔اسرائیلی فوج کے چیف جنرل زمیر نے خبردار کیا تھا اگر آپ غزہ سٹی پر قبضہ چاہتے ہیں، تو یرغمالیوں کی واپسی کو جنگ کا ہدف سمجھنا ترک کر دیں۔ اس وقت بھی غزہ میں 50 کے قریب اسرائیلی یرغمالی حماس کے پاس موجود ہیں جن میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کی توقع ہے۔ ترجمان اسرائیلی فوج بھی کہہ چکے ہیں کہ غزہ شہر اور وسطی علاقوں میں واقع پناہ گزین کیمپوں میں زیادہ تر اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی سلامتی کابینہ میں بعض وزرا جیسے وزیر دفاع یوآف گالانٹ اور اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر نے جزوی قبضے کی حمایت کی لیکن دائیں بازو کے وزرا بیزالیل سموٹریچ اور ایتامار بن گویر مکمل فوجی قبضے کے حق میں ہیں۔جس پر اسرائیلی اٹارنی جنرل نے کابینہ کو یاد دلایا تھا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق “کسی علاقے پر قبضہ اس کی مکمل ذمہ داری کے ساتھ آتا ہے۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ قبضہ نہیں بلکہ کنٹرول ہے جیسا کہ ہم نے دیگر علاقوں میں بھی کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق فلسطینیوں کو 7 اکتوبر 2025 تک غزہ سٹی خالی کرنے کی مہلت دی گئی ہے، جس کے بعد اسرائیلی فوج کا زمینی آپریشن شروع ہو گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآرمینیا آذربائیجان تنازع حل کرانے میں بہت لوگ ناکام رہے، بالآخر ہم کامیاب ہوئے: ٹرمپ آرمینیا آذربائیجان تنازع حل کرانے میں بہت لوگ ناکام رہے، بالآخر ہم کامیاب ہوئے: ٹرمپ چیئرمین سی ڈی اے کی اسلام آباد میں جاری ترقیاتی کام بروقت مکمل کرنے کی ہدایت مقبول گوندل آڈیٹر جنرل پاکستان تعینات،نوٹیفکیشن سب نیوز پر امریکا بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا؟ نائب صدر کا بیان سامنے آگیا مودی کے ٹرمپ اور چین کیساتھ کشیدہ تعلقات، بھارت عالمی تنہائی کا شکار، امریکی جریدے کی رپورٹ اسلاموفوبیا؛ ہسپانوی شہر میں مذہبی تہواروں اور تقریبات پر پابندی لگادی گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قومی سلامتی نے نیتن یاہو
پڑھیں:
آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
آسٹریلیا نے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ہونے والے آکس دفاعی معاہدے کے تحت جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب امریکی ڈالر (4.6 ارب آسٹریلوی ڈالر) مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کے بجائے استعمال شدہ ورجینیا آبدوزیں دے گا
آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے جمعہ کو بتایا کہ یہ رقم جنوبی آسٹریلیا کے شہر اوسبورن میں قائم شپ یارڈ پر خرچ کی جائے گی تاکہ ملک کی مستقبل کی جوہری آبدوزوں کی تیاری، دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے مقامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آکس معاہدہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس پر عملی طور پر کام جاری ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق یہ سرمایہ کاری آسٹریلیا کو اپنی مستقبل کی آبدوزوں کی تیاری، آپریشن، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے خودمختار دفاعی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
آکس معاہدہ کیا ہے؟آکس معاہدہ 2021 میں آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیے: سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم
اس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا کو تین جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کرے گا جبکہ بعد ازاں آسٹریلیا اور برطانیہ مل کر سنہ 2040 کی دہائی میں نئی نسل کی جوہری آبدوزیں تیار کریں گے۔
منصوبے پر خدشات بھی برقراراگرچہ آسٹریلیا اس منصوبے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے تاہم اس پر مسلسل سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں آبدوزوں کی سست رفتار پیداوار کے باعث خدشہ ہے کہ آسٹریلیا کو مطلوبہ وقت پر یہ آبدوزیں دستیاب نہیں ہو سکیں گی۔
اخراجات میں مزید اضافہآکس معاہدہ آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے مہنگا دفاعی منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے جس پر آئندہ 30 برسوں میں تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق آسٹریلیا کو امریکا سے 2 استعمال شدہ اور ایک نئی جوہری آبدوز ملنی تھی تاہم مئی 2026 میں اس منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تینوں آبدوزیں امریکی بحریہ میں پہلے سے زیر استعمال جہازوں میں سے فراہم کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: پاکستانی طلبا آسٹریلیا کی اسکالرشپ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا انتظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ کم لاگت اور عملی ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا کا جوہری آبدوزوں کا منصوبہ آکس معاہدہ آسٹریلیا امریکا برطانیہ