ڈاکٹر رتھ فاؤ کو دنیا سے رخصت ہوئے 8 برس بیت گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
طب کے شعبے سے وابستہ پاکستان کی مدر ٹریسا، ڈاکٹر رتھ فاؤ کو دنیا سے رخصت ہوئے 8 برس بیت گئے۔پاکستان میں جذام کے مریضوں کی ماں جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں، ڈاکٹر رتھ فاؤ 8 مارچ 1960 میں پہلی بار پاکستان آئیں، اس وقت جب پاکستان میں کوڑھ کے مریض کو اچھوت سمجھا جاتا تھا، ایسے وقت میں جرمنی سے تعلق رکھنے والی اس خاتون ڈاکٹر نے جذام کے پاکستان سے خاتمے کیلئے اپنی تمام زندگی وقف کر دی۔کراچی کے علاقے صدر میں ’میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر‘ کی بنیاد رکھی، انہوں نے اپنی تمام تر محبت ان مریضوں کو دی جنہیں ان کے اپنے بھی چھوڑ دیتے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق ڈاکٹر رتھ فاؤ کی شب و روز کوششوں کے نتیجے میں عالمی ادارہ صحت نے 1996 میں پاکستان کو کوڑھ کے مرض سے پاک ملک قرار دے دیا، اس موقع پر سول ہسپتال کے ایم ایس نے ڈاکٹر رتھ فاؤ کے نام سے ایک لائبریری قائم کرنے کا اعلان کیا۔ڈاکٹر رتھ فاؤ کو پاکستان میں ستارہ قائد اعظم اور ستارہ ہلال ایوارڈ سے نوازا گیا، ان کا انتقال 10 اگست 2017 کو کراچی میں ہوا، ڈاکٹر رتھ فاؤ کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اور سول ہسپتال کراچی کو ان سے موسوم کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔