بانی پی ٹی آئی کی کوشش تھی کہ 9مئی کو ملک کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکے، شرجیل میمن WhatsAppFacebookTwitter 0 10 August, 2025 سب نیوز

کراچی(آئی پی ایس )سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ 9 مئی کو بانی پی ٹی آئی کی کوشش تھی کہ ملک کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکے۔میڈیا سے گفتگو میں شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 9 مئی کو جو کیا اس کے بعد ان میں ایسی حرکت کی ہمت نہیں ہوئی، یوم استحصال کشمیر پر بھی 9 مئی کی سوچ کی طرح انہوں نے احتجاج کی کال دی تھی۔

شرجیل میمن نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگ بھی جشن آزادی کی تقریبات میں شامل ہوں، سیاسی اختلافات اپنی جگہ پر لیکن قومی تہوار میں سب کو متحد ہونا چاہیے۔سینئر صوبائی وزیر نے بتایا کہ جشن آزادی کی تقریبات کے انعقاد میں سندھ حکومت بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے، 13 اگست کو نیشنل اسٹیڈیم میں پروگرام کا انعقاد کر رہے ہیں جہاں میوزیکل شو اور آتش بازی کا مظاہرہ ہوگا، کنسرٹ کیلیے مختلف مقامات پر بڑی اسکرینز اور لاڈ اسپیکرز لگائیں گے، 13 اگست کو کراچی میں ہونیوالا کنسرٹ سندھ کے ہر ڈسٹرکٹ میں لائیو دکھائیں گے۔تمام وزرا آزادی کے جشن میں بھرپور انداز سے ثابت قدم ہیں۔ یہ پاکستان کا پروگرام ہے جس میں کسی سیاسی جماعت کا کردار نہیں۔ کل کے کرکٹ میچ میں اپوزیشن اور لیڈر آف دی ہاس دونوں ساتھ تھے۔

سکھر میں جشن آزادی پر آج کنسرٹ ہونے جا رہا ہے۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کل راشد منہاس روڈ پر افسوسناک واقعہ پیش آیا سی سی ٹی وی کی مدد سے 14 لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ملک نے بہت نفرت دیکھ لی اب یہ ترقی کی جانب گامزن ہے، کوئی نفرت انگیز حرکت کرے گا تو قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک حادثے میں کسی کی جان جائے تو ذمہ دار گرفتار ہوتا ہے یا بھاگ جاتا ہے، نفرت پھیلانے اور جلا گھیرا کرانے والوں کے خلاف قانون واضح ہے، ہمیں معلوم ہے کچھ لوگ سازش کر رہے ہیں، ڈمپر جلانے اور جلوانے والے دونوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیل کا غزہ پر مکمل قبضے کا منصوبہ خطرناک اشتعال انگیزی ہے، عاصم افتخار اسرائیل کا غزہ پر مکمل قبضے کا منصوبہ خطرناک اشتعال انگیزی ہے، عاصم افتخار مری روڈ پر واقع مدرسہ انتظامیہ کی مکمل مشاورت اور رضامندی سے منتقل کیا گیا ہے،وزیرمملکت طلال چوہدری اسلام آباد ائیرپورٹ 8دن بند رہنے کی خبریں درست نہیں، ترجمان ائیرپورٹ اتھارٹی کی تردید نیب نے 6ماہ کے دوران 547ارب 31کروڑ روپے ریکور کر لیے زیارت میں نامعلوم افراد نے اسسٹنٹ کمشنر کو بیٹے سمیت اغوا کرلیا خیبر پختونخوا حکومت کا محکمہ بلدیات کے تمام مالی امور ڈیجیٹل نظام پر لانے کا فیصلہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: شرجیل میمن پی ٹی آئی

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟