اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 اگست ۔2025 )پاکستان چین جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نذیر حسین نے کہاہے کہ بین الاقوامی معیار کے سرٹیفیکیشن اور پیکیجنگ کی کمی کی وجہ سے پاکستان کے معیاری شہد کی بین الاقوامی مارکیٹ میں زیادہ مانگ نہیں ہے ویلتھ پاک کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی منڈی میں اپنے اعلی ذائقے اور مسابقتی قیمت کے باوجود، پاکستان کا شہد 20-25 امریکی ڈالر فی کلو گرام تک کم فروخت ہوتا ہے حالانکہ اس کا ایک کلو بین الاقوامی معیار کے مطابق پروسیس ہونے پر اسے 100 امریکی ڈالر فی کلو مل سکتا ہے.

(جاری ہے)

انہوں نے ملک بھر میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ لیبارٹریز اور بڑے پیمانے پر شہد کی پروسیسنگ کی سہولیات کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئےکہا کہ پاکستان شہد کی فلٹریشن، پیکیجنگ، جراثیم کشی اور درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے جدید یونٹس قائم کرنے کے لیے چینی تعاون حاصل کر سکتا ہے پی سی جے سی سی آئی کے صدر نے کہاکہ چین کا مضبوط سرٹیفیکیشن اور لیب کا انفراسٹرکچر پاکستان کے لیے ایک رول ماڈل ثابت ہو سکتا ہے چینی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے جدید ٹیسٹنگ لیبز کے قیام کو تیز تر کر سکتے ہیں تاکہ پیداوار اور برآمدی صلاحیت دونوں کو بڑھایا جا سکے.

پاکستان کی شہد کی منڈی کی غیر استعمال شدہ صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چین عالمی سطح پر شہد کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے اور پاکستان سمارٹ پروسیسنگ کو اپنا کر چین کو اچھی مقدار میں شہد برآمد کر سکتا ہے پاکستان نے جولائی سے نومبر 2020 تک سعودی عرب کو 6.351 ملین امریکی ڈالر مالیت کا شہد برآمد کیا مارکیٹ نیٹ کو یورپ سمیت دیگر عالمی ہائی ویلیو مارکیٹوں تک بڑھایا جا سکتا ہے اس وقت پاکستان سالانہ 20,000 ٹن شہد پیدا کرتا ہے اس مقدار کو مستند مصدقہ برآمدات کے ذریعے بڑھایا جا سکتا ہے.

ویلتھ پاک سے شہد کی پیداوار اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے مربوط تکنیکی شراکت داری کے بارے میں بات کرتے ہوئے پنجاب کے محکمہ زراعت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد نوید نے کہا کہ پاکستان میں پیدا ہونے والا شہد بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پیچھے رہتا ہے اس حقیقت کے باوجود کہ ملک میں متنوع نباتات اور معیاری شہد کی پیداوار کے لیے سازگار آب و ہوا ہے اس کی بڑی وجہ پراسیسنگ کی جدید سہولیات، معیار کی جانچ کرنے والی لیبارٹریز اور موثر سپلائی چینز کا فقدان ہے اس فرق کو پر کرنے کے لیے پاکستان چینی تعاون حاصل کر سکتا ہے تاکہ ویلیو ایڈیشن، مصنوعات کی معیاری کاری، معیار کی یقین دہانی، باقیات کی نگرانی، ٹریس ایبلٹی باقیات، اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مارکیٹنگ کی حکمت عملیوں کے بارے میں مہارت کا اشتراک کیا جا سکے.

انہوں نے کہا کہ بہت سے دوسرے ممالک بھی پاکستان سے نامیاتی شہد خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں خاص طور پر سدر، ببول اور لیموں کے درختوں سے حاصل کردہ شہد انہوں نے کہا کہ طے شدہ معیارات پر پورا اترنے کے لیے پاکستان میں سمارٹ ہنی پروسیسنگ اور ایکسپورٹ ہب ہونا ضروری ہے حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اس اقتصادی شعبے میں اچھی سرمایہ کاری کو راغب کر سکتی ہے جس میں شہد کی مکھیاں پالنے کی جدید تکنیکوں کو اپنانے کے لیے ترغیبات دی جا سکتی ہیں بشمول اے آئی پر مبنی چھتے کی نگرانی ایک جدید ٹیکنالوجی جو چین کے کچھ حصوں میں مقبول ہو رہی ہے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بین الاقوامی انہوں نے کہا نے کہا کہ سکتا ہے شہد کی کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ