UrduPoint:
2026-06-03@05:44:43 GMT

شام: سلامتی کونسل کی سویدہ میں قتل و غارت گری کی مذمت

اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT

شام: سلامتی کونسل کی سویدہ میں قتل و غارت گری کی مذمت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 11 اگست 2025ء) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے علاقے السویدہ میں حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنازع کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھیں اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

15 رکنی کونسل کی جانب سے متفقہ طور پر جاری کردہ صدارتی بیان میں گزشتہ ماہ السویدہ میں ہونے والی لڑائی کی سخت مذمت کی گئی ہے جس میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت ہوئی اور تقریباً 192,000 لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین اقوام متحدہ، اس کے عملدرآمدی شراکت داروں اور دیگر امدادی اداروں کو السویدہ سمیت شام بھر میں انسانی امداد کی محفوظ، بروقت اور بلارکاوٹ فراہمی میں سہولت دیں۔

سلامتی کونسل نے یہ بھی کہا ہے کہ لڑائی میں ہتھیار ڈالنے والوں، زخمیوں اور قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک روا رکھا جائے اور ان کے حقوق پامال نہ کیے جائیں۔

(جاری ہے)

شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

کونسل نے شام کے عبوری حکام پر زور دیا ہے کہ وہ قومیت یا عقیدے سے قطع نظر تمام لوگوں کو تحفظ دیں کیونکہ اس کے بغیر ملک کی حقیقی بحالی ممکن نہیں۔

ارکان نے شامی حکام کی جانب سے تشدد کی مذمت کرنے، السویدہ میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات اور ذمہ داروں کا محاسبہ کرنے سے متعلق بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تحقیقات بین الاقوامی معیار کے مطابق، قابل بھروسہ، تیزرفتار، شفاف، غیرجانبدارانہ اور مفصل ہونی چاہئیں۔

بیان میں شام کے عبوری حکام کی جانب سے ایسے افراد کی شناخت کے لیے کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم بھی کیا گیا ہے جو السویدہ میں ہونے والے تشدد میں ملوث تھے۔ کونسل نے انصاف کی فراہمی اور مفاہمت کے عمل کو مشمولہ و شفاف بنانے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

سلامتی کونسل نے شام کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی توثیق کرتے ہوئے تمام ممالک سے کہا ہے کہ وہ ان اصولوں کا احترام کریں۔

سیاسی تبدیلی میں مداخلت کی مذمت

کونسل نے شام میں سیاسی، معاشی اور سلامتی کے حوالے سے تبدیلی کے عمل میں ہر طرح کی منفی یا تباہ کن مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی مداخلت سے ملک میں استحکام کو بحال کرنے کی کوششیں کمزور ہوں گی اور تمام ممالک سےکہا گیا ہےکہ وہ ایسے اقدامات یا مداخلت سے باز رہیں جس کے نتیجے میں ملک کے مزید غیرمستحکم ہونے کا خدشہ ہو۔

بیان میں 1970 کے معاہدے کا احترام کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے جس کے تحت اسرائیل اور شام نے ملک کے جنوب مغربی علاقے سے اپنی فوجیں ہٹا لی تھیں اور وہاں اقوام متحدہ کی مشاہدہ کار فورس (یو این ڈی او ایف) تعینات کی گئی۔ ارکان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی پاسداری کرنا، امن کو برقرار رکھنا اور کشیدگی میں کمی لانا تمام فریقین کی ذمہ داری ہے۔

علاوہ ازیں،کونسل نے داعش اور القاعدہ پر پابندیوں کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کی 36ویں رپورٹ کا جائزہ بھی لیا اور شام میں ہر طرح کی دہشت گردی کو روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس نے غیرملکی دہشت گرد جنگجوؤں سے لاحق خطرے کی شدت پر بھی سنگین تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے تمام علاقے اور رکن ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔

مشمولہ سیاسی عمل پر زور

سلامتی کونسل نے قرارداد 2254 کے بنیادی اصولوں کی بنیاد پر مشمولہ، شامی عوام کے زیرقیادت اور انہی کے لیے سیاسی عمل پر عملدرآمد کے لیے بھی کہا۔

اس میں نسلی و مذہبی وابستگی سے قطع نظر تمام شامیوں کے حقوق کا تحفظ بھی شامل ہے۔

اس میں واضح کیا گیا ہے کہ سیاسی عمل میں تمام شامیوں کی جائز خواہشات کی تکمیل ہونی چاہیے، انہیں تحفظ ملنا چاہیے اور وہ پرامن، آزادانہ اور جمہوریہ طور سے اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہوں۔

سلامتی کونسل نے قرارداد 2254 میں طے کردہ اصولوں کی مطابقت سے شام میں سیاسی تبدیلی کے عمل میں اقوام متحدہ کی حمایت کی اہمیت بھی واضح کی اور اس ضمن میں ادارے کے خصوصی نمائندے کے دفتر کی کوششوں کے لیے اپنی حمایت اور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سلامتی کونسل نے کونسل نے شام السویدہ میں اقوام متحدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کی مذمت زور دیا کے عمل کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد