سلامتی کونسل کا غزہ پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے پر ہنگامی اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
سلامتی کونسل کا غزہ پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے پر ہنگامی اجلاس WhatsAppFacebookTwitter 0 11 August, 2025 سب نیوز
اقوام متحدہ : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی جانب سے غزہ شہر پر فوجی قبضے کے منصوبے کی منظوری کے بعد ایک ہنگامی کھلا اجلاس منعقد کیا۔ اس ہنگامی اجلاس کی درخواست سلامتی کونسل کے یورپی مستقل اور غیر مستقل ارکان برطانیہ، فرانس، ڈنمارک، یونان اور سلووینیا نے کی تھی،
جسے امریکہ کے علاوہ کونسل کے تمام ارکان کی حمایت حاصل تھی۔مذکورہ پانچ یورپی ممالک نے اجلاس سے قبل ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کی غزہ میں فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے کے منصوبے کی مذمت کی اور اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اس منصوبے کو منسوخ کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی قسم کے الحاق یا آبادکاریوں کو وسعت دینے کی کوشش بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ غزہ پٹی میں فوجی کارروائیوں میں اضافہ صرف شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالے گا اور مزید غیر ضروری تکلیف کا باعث بنے گا۔ پانچ یورپی ممالک نے تنازع میں شامل دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مستقل جنگ بندی نافذ کریں،
تمام قیدیوں کو رہا کریں اور “دو ریاستی حل”کو فعال طور پر آگے بڑھائیں۔ چین کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب فو چھونگ نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کے غزہ پر قبضے کے کسی بھی منصوبے کی سختی سے مخالفت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ فلسطینی عوام کی ملکیت ہے اور فلسطینی علاقے کا اٹوٹ حصہ ہے، غزہ کی آبادی اور علاقائی ساخت میں کسی بھی تبدیلی لانے کی کوشش کو سختی سے مسترد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ تنازع کو بڑھانے والے اقدامات فوری طور پر بند کرے اور غزہ میں فوجی کارروائیاں روک دے۔ انہوں نے کہا کہ تنازع کے فریقوں پر اہم اثر رکھنے والے ممالک کو غیر جانبدارانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے اور جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین کے فلپائنی بحری جہازوں کو جزیرہ ہوانگ یئن کے قریب پانیوں سےنکالنے کے اقدامات چین کے فلپائنی بحری جہازوں کو جزیرہ ہوانگ یئن کے قریب پانیوں سےنکالنے کے اقدامات چین کے پانچ نیشنل پارکس کے لئے حقوق کی رجسٹریشن مکمل ہو گئی انصاف صرف دلوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے عمل میں لانے کی ضرورت ہے، رپورٹ الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر سنگین الزامات، دہلی پولیس نے راہول گاندھی کو گرفتار کرلیا ایران نے نئے جوہری سائنس دان روپوش کردیے، اسرائیل کی نئی ہٹ لسٹ تیار ایشیا کے امیر ترین آدمی مکیش امبانی کو اپنی کمپنی سے کتنی تنخواہ ملتی ہے؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل کے منصوبے قبضے کے
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘