پشاور بی آر ٹی منصوبے میں28ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
پشاور (آئی این پی )آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بی آر ٹی پشاور کے 2019 سے 2022 تک کے مالی امور کا آڈٹ مکمل کرتے ہوئے 28 ارب روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمرشل پلازے مکمل نہ ہونے، غلط کنٹریکٹس اور دیگر انتظامی خامیوں سے اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ مفت زو کارڈز کی تقسیم سے ٹرانس پشاور کمپنی کو 11 کروڑ 86 لاکھ روپے کا خسارہ ہوا، جبکہ وینڈرز سے ٹیکس وصول نہ کرنے کے باعث خزانے کو 48 کروڑ 58 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ٹھیکے دینے کے عمل میں بے ضابطگیوں سے 3 ارب 78 کروڑ روپے، اور آئی پی ایس کنٹریکٹ ایکنک کی اجازت کے بغیر دینے سے 11 ارب 32 کروڑ روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بی آر ٹی کے مختلف اسٹیشنز سے 1,197 میٹر بجلی کی تار چوری ہوئی جس سے 34 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ اسی طرح بسوں میں اشتہارات کی آمدنی ٹرانس پشاور کے بجائے وینڈرز کو دے دی گئی۔صوبائی حکومت کی جانب سے سبسڈی کی مد میں فراہم کی گئی رقم میں 4 ارب 44 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ آڈٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹرانس پشاور کے پہلے سی ای او فیاض احمد کو مطلوبہ اہلیت نہ ہونے کے باوجود تعینات کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: روپے کا
پڑھیں:
صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں