9 مئی مقدمات میں سزا یافتہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جائیدادیں ضبط ، شاہ محمود قریشی کو رہا کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست 2025ء ) انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے مقدمات میں سزا یافتہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے تھانہ شادمان کو آگ لگانے سمیت دو مقدمات میں گزشتہ روز سنائے گئے فیصلے کی تفصیلات جاری کر دیں۔ اے ٹی سی فیصلے کے مطابق عدالت نے تمام مجرموں کو قید بامشقت کی سزا سنائی اور حکم دیا کہ مجرموں کو تمام سزائیں ایک ساتھ کاٹنی ہوں گی۔
(جاری ہے)
انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری، محمودالرشید، عمر سرفراز اور یاسمین راشد کی جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔ دوسری طرف عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے 2 کیسز میں رہا کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ گزشتہ روز اے ٹی سی نے گزشتہ روز فیصلہ سناتے ہوئے دونوں مقدمات شاہ محمود قریشی کو بری جب کہ سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ، سابق صوبائی وزیرڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے عالیہ حمزہ اور ضم جاوید کو پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے کے مقدمے 5،5 برس جب کہ عائشہ بھٹہ کو پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمے 10 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عدالت نے کرنے کا
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی