’کھوپڑی سنک گئی تو۔۔۔‘؛ متھن چکرورتی کا بلاول اور پاکستان کے خلاف متنازع بیان
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
ممبئی — مودی کی انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور بالی ووڈ اداکار متھن چکرورتی نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر انتہائی نامناسب اور اشتعال انگیز ردعمل دیا ہے۔
پس منظر میں بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو نے حال ہی میں سندھ طاس معاہدے میں بھارت کی جانب سے ممکنہ تبدیلیوں پر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی عوام میں اتنی طاقت ہے کہ وہ نہ صرف جنگ میں بھارت کا مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ چھ دریا بھی واپس لے سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر دباؤ ڈالا گیا تو پاکستان نہ جھکے گا اور نہ پیچھے ہٹے گا۔
اسی پر ردعمل دیتے ہوئے متھن چکرورتی نے کلکتہ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا:
“اگر ایسی باتیں کرتے رہے اور ہماری کھوپڑی سنک گئی تو ایک کے بعد ایک براہموس میزائل چلے گا۔”
متھن یہاں رکے نہیں بلکہ طنزیہ لہجے میں مزید کہا:
“ہم نے تو یہ بھی سوچا ہے کہ ایک ڈیم بنائیں جہاں ہمارے 140 کروڑ لوگ پیشاب کریں، پھر اس ڈیم کو کھول دیں، اور سونامی آ جائے۔”
انہوں نے یہ بھی وضاحت دی کہ ان کی یہ بات پاکستان کے عوام کے لیے نہیں بلکہ بلاول بھٹو کو نشانہ بنانے کے لیے تھی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بلاول بھٹو نے بھارت کو پانی کے معاملے پر چیلنج کیا ہو۔ اس سے پہلے جون میں انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ اگر پاکستان کو اپنے حصے کا پانی نہ ملا تو جنگ ناگزیر ہو گی۔
یاد رہے کہ بھارت نے اپریل میں 1960 کا سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ پہلگام حملے کے کچھ ہی دن بعد کیا گیا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ یہ معاہدہ اب بحال نہیں ہوگا۔
#WATCH | Kolkata, WB: On Bilawal Bhutto's reported statement on Indus Water Treaty, BJP leader Mithun Chakraborty says, "…Agar aisi baatein karte rahenge aur hamari khopdi sanak gayi toh phir ek ke baad ek BrahMos chalega… We have also thought of building a dam where 140… pic.
— ANI (@ANI) August 12, 2025
Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔