وزیراعظم کا آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی تشکیل کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
فوٹو اسکرین گریب
وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی تشکیل کا اعلان کردیا اور کہا کہ فورس کمانڈ کی تشکیل جنگی صلاحیت کی جانب اہم سنگ میل ہے۔
اسلام آباد میں یوم آزادی کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم نے کہاکہ ہماری ایٹمی طاقت کسی طور پر جارحانہ سوچ نہیں رکھتی ہے۔
شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق نے ثابت کیا کہ ہم اس آزادی کی حفاظت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف آزادی کی جنگ نہیں دو قومی نظریےکی فتح تھی، تحریک پاکستان کے تمام قائدین اور کارکنوں کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری تقریب کے مہمان خصوصی ہیں، وزیرِاعظم شہباز شریف، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، قومی اور غیر ملکی شخصیات بھی تقریب میں شریک ہیں۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ ہم نے جشن آزادی کو معرکہ حق کا نام دیا ہے، چار دن کے اندر بھارت کا غرور مٹی میں مل گیا۔ بھارت کی آنے والی نسلیں اس شکست کویاد رکھیں گی، معرکہ حق نےثابت کیا کہ ہم اس آزادی کی حفاظت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے پاکستان پرحملہ کیا اس کو گھمنڈ تھا کہ اپنی جنگی طاقت سے پاکستان کو زیر کرے گا، ہمارے دوست ممالک نے مشکل گھڑی میں ہمارا حوصلہ بڑھایا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کی جوہری طاقت کےمقابلے میں ایٹمی طاقت کے حصول کا راستہ اپنایا، ہماری ایٹمی طاقت کسی طور پر جارحانہ سوچ نہیں رکھتی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ جشن آزادی کی تقریبات میں بھی آگے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ چین، سعودی عرب، ترکیے، آذربائیجان، یو اے ای، ایران نے پاکستانی موقف کی کھل کرحمایت کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے جنگ بندی کےلیےٹھوس کوششیں کیں، امید ہے ٹرمپ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حل کروائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے ا زادی کی معرکہ حق کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔