ٹرینر پر ’اورکا‘ کا جان لیوا حملہ، وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک سمندری ٹرینر ’جیسیکا ریڈکلف‘ کو شو کے دوران ’اورکا‘ وہیل نے مار ڈالا۔
ویڈیو میں خاتون وہیل کی پیٹھ پر رقص کرتی دکھائی دیتی ہے اور پھر وہیل اچانک اسے پانی میں کھینچ لیتی ہے۔
Breaking ????Jessica Radcliffe orca attack real video Twitter — dolphin Jessica accident original, is it true? nachrichten deutsch https://t.
That is how Jessica's life was ended by the Orca she trains ,rip ????#jessica #rip #orcaattack pic.twitter.com/AXrPM6ilY0
— Hiroshi Suyama (@ner0xxxx) August 13, 2025
لیکن حقائق جانچنے والے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ ویڈیو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (AI) سے بنائی گئی ہے اور اس واقعے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
نہ تو جیسیکا ریڈکلف نامی کوئی ٹرینر موجود ہے، نہ ہی یہ واقعہ کسی میرین پارک میں پیش آیا۔
ویڈیو کے مناظر، آواز اور حتیٰ کہ پارک کا نام بھی جعلی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کی جھوٹی ویڈیوز ماضی کے حقیقی حادثات سے ملتی جلتی بنا کر پھیلائی جاتی ہیں تاکہ لوگ آسانی سے یقین کر لیں۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر دیکھی گئی ہر ویڈیو کو معتبر ذرائع سے تصدیق کیے بغیر سچ نہ مانیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔