کراچی کے علاقے ڈیفنس میں انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں سنگدل ماں نے اپنے دو کمسن بچوں کو تیز دھار آلے کی مدد سے گلا کاٹ کر قتل کردیا جب کہ پولیس نے ماں کو حراست میں لیکر آلہ قتل برآمد کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق درخشان تھانے کےعلاقے ڈیفنس فیز 6 خیابان مجاہد اسٹریٹ نمبر 10 میں واقع بنگلے سے 2 کمسن بچوں کی گلا کٹی لاشیں ملی ہیں۔

واقع کی اطلاع ملنے پرپولیس موقع پرپہنچ گئی اورپولیس نے بنگلے سے شواہد اکھٹا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو بھی طلب کرلیا جب کہ بچوں کی لاش قانونی کارروائی کے لیے ایدھی ایمبولنسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کردی گئیں۔

قتل کیے جانے والے بچوں کی شناخت ساڑھے 4 سالہ سمیحہ دخترغفران اور 7 سالہ ضرار ولد غفران کے ناموں سے کی گئی۔

ایس ایس پی ساوتھ مہزورعلی نے ایکپسریس سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کو مددگار 15 کے ذریعے اطلاع ملی تھی کہ ایک خاتون نے اپنے 2 کمسن بچوں کو قتل کردیا ہے جس پر پولیس موقع پر پہچی تو دیکھا کہ گھر کے واش روم میں 2 بچوں کی لاشیں موجود ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ دونوں بچوں کوان کی سگی ماں ادیبہ نے گردن پرتیز دھارآلہ کے وارکرکے قتل کیا ہے، پولیس نے خاتون کو حراست میں لیکر تھانے منتقل کردیا ہے۔

ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ حراست میں لی جانے والی خاتون ادیبہ کی 9 سال قبل غفران سے شادی ہوئی تھی، خاتون کا ذہنی توازن درست نہیں ہے اورخاتون کو دورے پڑا کرتے ہیں، اسی وجہ سے گزشتہ سال ستمبرمیں خاتون ادیبہ کو ان کے شوہرغفران نے طلاق دے دی تھی اورعدالت نے بچوں کی حوالگی والد غفران کے سپرد کردی تھی۔

والد غفران اکثر اپنے بچوں کوان کی والدہ ادیبہ سے ملوانے کے لیے بھیجا کرتا تھا اورگزشتہ روز بھی والد نے بچوں کو والدہ ملنے کے لیے بھجوایا تھا۔

بچے والدہ کے ساتھ تھے اسی دوران کسی وقت بچوں کی والدہ کو دورے پڑے اوروالدہ ذہنی توازن کھوکر دونوں بچوں کو گھر کے واش روم میں لے گئی جہاں خاتون نے دونوں بچوں کو چھری کی مدد سے ذبح کردیا۔

انھوں نے بتایاکہ خاتون ادیبہ نے ہی فون کرکے اپنے سابق شوہر کو بچوں کو قتل کرنے کی اطلاع دی تھی جس پر بچوں کے والد یا چچا نے مددگار 15 پولیس کواطلاع دی اوراس طرح بچوں کے والد کے ہمراہ پولیس موقع پر پہنچی۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ بچوں کے والد نجی کمپنی میں بڑے عہدے پر فائز ہیں جب کہ ملزمہ ادیبہ گھریلو خاتون ہے اور اکیلی بنگلے میں کرائے پر رہائش پذیر تھی۔

انھوں نے بتایاکہ بنگلے میں چار پورشن بنے ہوئے ہیں اور خاتون بنگلے کے فرسٹ فلور پر واقع ایک پورشن میں مقیم تھی۔

ابتدائی طور پرمعلوم ہوا کہ  خاتون لاہور کی رہائشی ہے، پولیس نے جائے وقوع سے آلہ قتل چھری سمیت دیگر شواہد بھی اکٹھا کر لیے ہیں اور واقعے کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

قتل کیے جانے والے بچوں کے والد کے ایک ملازم نے میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفگتو کرتے ہوئے بتایا کہ روزانہ اسکول کے بعد بچوں کو ان کی والدہ کے پاس چھوڑتا تھا اور شام میں واپس لے جاتا تھا۔

مقتول بچوں کے والد کے ملازم نے مزید بتایا کہ بدھ کو بھی معمول کے مطابق بچوں کو چھوڑا، لیکن شام گئے تک والدہ کی کال نہ آنے پر رابطہ کیا تو خاتون نے کہا کہ بچے آج رات وہیں رہیں گے اور صبح لے جائیے گا۔ صبح والد کی ہدایت پر جب میں گھر پہنچا تو باتھ روم میں دونوں بچوں کی لاشیں خون میں لت پت پڑی تھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بچوں کے والد دونوں بچوں کمسن بچوں بتایا کہ پولیس نے نے بتایا بچوں کو بچوں کی کے لیے

پڑھیں:

کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن  تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔

 پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد

پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار