راولپنڈی:

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے جیل میں ملاقات کے دن کے باوجود ان کے رفقا کی ملاقات نہیں ہوسکی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما شاکر محمود اعوان، شفیع اللہ خان، مرتضیٰ حسین طور اور محمد فیصل خان داہگل ناکے پہنچے لیکن راولپنڈی پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی اور تمام رہنما داہگل ناکے سے واپس روانہ ہوگئے۔

پی ٹی آئی راولپنڈی کے رہنما زبیر خان کو پولیس نے اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر روک دیا اور انہیں آگے جانے سے روک دیا اور وہ داہگل ناکے سے واپس ہوگئے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زبیر خان نے بتایا کہ آج 14 اگست ہے، آزادی کے دن بھی قدغن لگائی گئی ہے، ہمیں اپنے لیڈر سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کے دن جیل جانے سے روک دیا گیا، راستہ بند کردیا گیا ہے، 14 اگست کو ہم راولپنڈی مری روڈ پر نکلے ہیں۔

زبیرخان نے کہا کہ اصل آزادی اس دن ہوگی جب بانی پی ٹی آئی رہا ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: داہگل ناکے پی ٹی آئی

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان