معرکہ حق جشن آزادی کی تقریبات منعقد کرنے کا اپنا وعدہ پورا کردیا، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
قرآن خوانی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ 14 اگست کو پاکستان وجود میں آیا اللہ تعالیٰ ا س وطن عزیز کو تاقیامت سلامت رکھے گا، نوجوان نسل کو یہ موقع ملا کہ اس نے دیکھا کہ پاک فوج نے بھارت کو بدترین شکست دی، معرکہ حق جشن آزادی منانے کا مقصد پوری قوم کا جوش و جذبات بھار ت کو دکھانا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ آج گورنر ہاؤس میں قرآن خوانی میں 100 قرآن پاک ختم کئے گئے ہیں۔ اس قرآن خوانی کا ایصال ثواب معرکہ حق کے شہداء بالخصوص کربلا کے شہیدوں کو پہنچے گا، یکم اگست سے 14 اگست تک معرکہ حق جشن آزادی کے پروگرامز منعقد کرنے کا اپنا وعدہ پورا کردیا ہے، ان تقریبات میں تاریخ کا سب سے بڑا ڈیجیٹل اسٹیج، قومی پرچم اور بہت سے شوز منعقد کئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور انیس قائم خانی کے ہمراہ قرآن خوانی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
گورنر سندھ نے مزید کہا کہ 14 اگست کو پاکستان وجود میں آیا اللہ تعالیٰ ا س وطن عزیز کو تاقیامت سلامت رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو یہ موقع ملا کہ اس نے دیکھا کہ پاک فوج نے بھارت کو بدترین شکست دی، معرکہ حق جشن آزادی منانے کا مقصد پوری قوم کا جوش و جذبات بھار ت کو دکھانا تھا۔، بھارت نے رات کے اندھیرے میں حملہ کیا لیکن پاک فوج نے اس کا بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ گنا طاقت والا بھارت اندر سے ٹھس نکلا، ایئر فورس، نیوی اور پاک فوج نے اس کا بھرکس نکال دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: معرکہ حق جشن آزادی قرآن خوانی پاک فوج نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔