آزاد کشمیر میں کلاؤ برسٹ، موسلادھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی، 6 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی تحصیل نصیرآباد میں ایک سنگین حادثہ پیش آیا، جہاں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
علاوہ ازیں آزاد کشمیر کے دیگر حصوں میں موسلا دھار بارشوں اور فلیش فلڈنگ کی وجہ سے ندی نالوں میں شدید طغیانی آگئی ہے۔ ضلع باغ میں شدید بارشوں سے ندی نالے بپھر گئے۔
کلاوڈ برسٹ استغفراللہ
شدید موسمی تبدیلیوں کی زد میں گرا ہوا آزاد کشمیر جہاں ہر سال کروڑوں روپے کے درخت بکثرت کاٹے جاتے ہیں اب بھی وقت ہے درخت لگانا شروع کردو ورنہ قدرتی آفات کے لیے ناگہانی موت کے لیے تیار رہو pic.
— murtaza yousif (@MurtazaYousif) August 14, 2025
یہ بھی پڑھیں: 14 سے 23 اگست تک مون بارشوں کا نیا اسپیل، سیلاب و اربن فلڈنگ کے خدشات
سماہنی کے بھمبر نالے میں سیلابی ریلے نے سیاحوں کی گاڑی بہا دی، تاہم ریسکیو ٹیموں نے تمام افراد کو بحفاظت محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔
ڈپٹی کمشنر نے اعلان کیاکہ ضلع بھر میں کل تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ علاوہ ازیں جہلم ویلی، سماہنی، ہٹیاں بالا اور وادی نیلم میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دوسری جانب گلگت بلتستان میں بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب نے شدید تباہی مچادی۔ ضلع غذر میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 3 افراد جاں بحق اور 3 لاپتا ہوگئے، جبکہ دیامر میں بہن بھائی سیلابی ریلے میں بہہ گئے، اور شاہراہ بابوسر پر لینڈ سلائیڈنگ سے ایک بچہ زخمی ہوا۔
علاوہ ازیں ہنزہ میں شیشپر گلیشیئر کے پگھلنے سے حسن آباد نالے کے اطراف شدید کٹاؤ ہوا، اور انتظامیہ نے مکینوں کو مکان خالی کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔ سیلاب سے فصلیں، مکانات، اسکول اور زرعی زمینیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ حکومت گلگت بلتستان نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
ترجمان حکومت فیض اللہ فراق نے واقعہ سے متاثرہ چنار باغ کے اردگرد رہائشیوں کو محتاط رہنے اور نشیبی علاقوں کی خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سیلاب کا الرٹ، این ڈی ایم اے کی تمام اداروں کو پیشگی اقدامات کی ہدایت
ادھر مانسہرہ کے سرن ویلی فیملی پارک کے قریب نالے میں بھی سیلابی ریلہ آیا، جس کے بعد قریباً 1300 سیاح محفوظ مقاموں پر منتقل کردیے گئے۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کے مطابق پارک میں رش تھا اور ملحقہ علاقوں سے بھی سیاحوں کو نکال لیا گیا۔
اسی طرح اپر کوہستان میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ کے باعث قراقرم ہائی وے کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آزاد کشمیر سنگین حادثہ فلڈنگ کلاؤڈ برسٹ گلگت بلتستان مانسہرہ مظفرآباد نصیرآباد وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سنگین حادثہ فلڈنگ کلاؤڈ برسٹ گلگت بلتستان وی نیوز گلگت بلتستان کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔