آزاد وخود مختار پاکستان ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا ثمر ہے، شاداب نقشبندی
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ آج ہم پاکستان میں آزادزندگی اور آزادی سے سانس لے رہے ہیں شہداء پاکستان کے لہو کی مرہون منت ہے، ہمیں اپنے ملک پاکستان کیلئے ایمانداری، محنت اور خلوص کے ساتھ کام کرنا چاہیئے تاکہ آنے والی نسلیں بھی آزاد فضاء میں سانس لے سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ آزادی ایک انمول نعمت ہے آزاد و خودمختار پاکستان ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا ثمر ہے، پاکستان کے 78ویں جشن آزادی ہمیں ایمان، اتحاد اور تنظیم کو فروغ دینے سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے ایک ہونے کا درس دیتی ہے، غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر پاکستان کے قیام کیلئے 22 لاکھ سے زائد لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، پاکستان حاصل کرنے کیلئے کسی نے اپنا گھر چھوڑا کسی نے اپنے پیاروں کو کھویا تو کسی نے اپنی جان دے دی، قیام پاکستان کی جدوجہد میں بزرگوں، جوانوں، عورتوں، بچوں سب کا خون شامل ہے، دو قومی نظریہ کی بنیاد پر آزاد و خودمختار پاکستان حاصل کرنے کی شمع علماء اہلسنت نے عوام کے دلوں میں روشن کی اور غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر اسلام کے نام پر پاکستان حاصل کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم پاکستان میں آزادزندگی اور آزادی سے سانس لے رہے ہیں شہداء پاکستان کے لہو کی مرہون منت ہے، ہمیں اپنے ملک پاکستان کیلئے ایمانداری، محنت اور خلوص کے ساتھ کام کرنا چاہیئے تاکہ آنے والی نسلیں بھی آزاد فضاء میں سانس لے سکیں، پاکستان بنانے کی جدوجہد میں شہید ہونیوالے اپنے اسلاف آباؤاجداد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، پاکستان کی سلامتی اور دہشتگردی کے خلاف شہید ہونے والے پاک فوج، رینجرز، پولیس اور سوسائٹی کے شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، دہشتگردی اور دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے 90 ہزار سے زائد قربانیوں کو کسی طور بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کے پاکستان کی سانس لے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔