یوم آزادی اور اس کے تقاضے
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
یوم آزادی اور معرکہ حق میں فتح کی خصوصی تقریب جناح اسپورٹس کمپلیکس میں ہوئی۔ اس موقعے پر وزیر اعظم شہباز شریف کا خطاب نہ صرف ایک رسمی تقریر تھا بلکہ اس میں کئی اہم سیاسی پیغامات، قومی اتحاد کی اپیل اور تاریخی حوالوں کا باریک بین تجزیہ موجود تھا۔ دوسری جانب ملک بھر میں 79 واں یوم آزادی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا، رواں سال یوم آزادی کو معرکہ حق کی عظیم فتح سے منسوب کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے جہاں آزادی کی اہمیت کو اجاگر کیا، وہیں ملک میں سیاسی استحکام کے لیے ’’ میثاقِ استحکامِ پاکستان‘‘ کی ایک بار پھر پیشکش کی۔ یہ وہ نکتہ ہے جسے صرف ایک سیاسی بیان سمجھنا کافی نہیں۔ پاکستان اس وقت جن داخلی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ان میں معیشت، سیاسی انتشار، عدالتی نظام پر سوالات، خارجہ پالیسی میں دباؤ اور عوامی اعتماد میں کمی جیسے مسائل سرفہرست ہیں۔ ان تمام چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے قومی سطح پر ایک متفقہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس کا آغاز اسی ’’میثاق‘‘ سے کیا جا سکتا ہے جس کی تجویز وزیر اعظم نے دی۔
میثاقِ جمہوریت کی طرز پر اگر تمام سیاسی قوتیں ایک ٹیبل پر بیٹھ کر چند بنیادی قومی امور پر اتفاق کر لیں، تو یہ ملک کی تقدیر بدلنے کا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے۔ ایسے معاہدے کا مقصد کسی ایک جماعت کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ پورے نظام کو بچانا ہے، تاکہ ادارے مضبوط ہوں، عوام کا اعتماد بحال ہو، اور دنیا کو یہ پیغام جائے کہ پاکستان ایک مستحکم اور بالغ نظر ریاست ہے۔وزیر اعظم کے خطاب میں بھارت کے حوالے سے تاریخی دفاعی تناظر کو بھی واضح انداز میں بیان کیا گیا، جو کہ ملکی سالمیت اور خود داری کا مظہر ہے۔
پاکستان نے ماضی میں بھی دشمن کی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آیندہ بھی اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ تاہم، جہاں ہم بیرونی خطرات کی بات کرتے ہیں، وہاں ہمیں اندرونی خطرات کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہم نے خود اپنے معاشرے کو تعصبات، انتہا پسندی اور انتشار کا شکار کر دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر مختلف الزامات لگا کر جس طرح عوام میں نفرت پیدا کر رہی ہیں، اس سے ملکی استحکام کو شدید دھچکا پہنچ رہا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب ملک کو مہنگائی، بے روزگاری، اور معاشی بحران نے گھیر رکھا ہے، عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے بجائے سیاست دان اپنے بیانیوں کے ذریعے صرف الزامات اور جوابی الزامات کی سیاست میں مصروف ہیں۔ کوئی پارٹی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ شاید اُس سے بھی کہیں غلطی ہوئی ہو۔ ہر ایک اپنے آپ کو معصوم اور باقیوں کو قصور وار قرار دیتا ہے۔
اس ذہنیت کو ختم کیے بغیر قومی مفاہمت ممکن نہیں۔ملک کے موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اب ضد، انا، اور ذاتی مفادات کو چھوڑ کر اجتماعی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔ جمہوریت صرف الیکشن کا نام نہیں بلکہ برداشت، مکالمہ، اور شراکتِ اقتدار کا نام ہے۔ جس ملک میں اپوزیشن کو دشمن اور حکومت کو ظالم قرار دیا جائے، وہاں نہ تو سیاسی نظام پنپ سکتا ہے اور نہ ہی معیشت بہتر ہو سکتی ہے۔
اس وقت ہمیں سیاست کی تطہیر اور نیت کی درستگی کی اشد ضرورت ہے۔وزیر اعظم کی جانب سے تمام سیاسی قوتوں کو مذاکرات کی دعوت دینا ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس میں نیت کی سچائی اور عمل کی مضبوطی بھی نظر آنی چاہیے۔ یہ دعوت صرف تقریر تک محدود نہ رہے بلکہ اس پر عملی پیش رفت بھی ہو۔اپوزیشن جماعتوں پر بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ حکومت کی راہ میں بلاجواز کانٹے نہ بوئیں اور ملکی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن دست تعاون بڑھائیں۔
ہمیں اپنے تعلیمی نصاب، میڈیا کے کردار، اور سوشل میڈیا کے رویوں پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی۔ سچ، تحقیق اور دلیل کا کلچر پروان چڑھانا ہوگا۔ صرف نعروں، جذبات اور وائرل بیانات سے ملک نہیں بنتے۔ ہمیں صبر، مستقل مزاجی، اور تدبر سے کام لینا ہوگا۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ پاکستان صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، جو انصاف، مساوات اور انسان دوستی پر قائم ہوا، اگر ہم ان اصولوں کو پس پشت ڈال دیں تو پھر صرف جغرافیہ باقی رہ جائے گا، روح ختم ہو جائے گی۔
ہماری سیاسی جماعتیں اگر واقعی پاکستان سے محبت رکھتی ہیں تو وہ ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دیں۔ ایک مضبوط، خوشحال، اور متحد پاکستان ہی ہر جماعت کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ اگر ملک ہی نہ رہے، یا عوام ہی بد حال رہیں، تو اقتدار کا حاصل کیا ہوگا؟ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچنا ہوگا۔
تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں نے جس نظریاتی ریاست کا خواب دیکھا تھا، اس کی بنیاد دینِ اسلام، عدل، مساوات، اخوت اور خود داری پر رکھی گئی تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے واضح الفاظ میں فرمایا تھا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہوگی جہاں ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے، قانون کی حکمرانی ہوگی، اقلیتوں کو تحفظ ملے گا اور ریاست اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیوں میں خود مختار ہوگی، مگر آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ہمیں ان خوابوں کی محض جھلکیاں ہی نظر آتی ہیں، حقیقت بہت حد تک مختلف اور تلخ دکھائی دیتی ہے۔
معاشی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ صحت، تعلیم اور انصاف جیسے بنیادی شعبے مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ ملک کے بڑے شہر تو کسی نہ کسی طور سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں، مگر دیہی علاقوں کی حالت زار دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ترقی کا پہیہ صرف چند مخصوص طبقات کے لیے ہی گھوم رہا ہے۔ کیا یہی وہ پاکستان تھا جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کے لیے لاکھوں افراد نے جانیں قربان کیں؟
بدقسمتی سے آج بھی ہم لسانی، مسلکی، صوبائی اور نسلی تعصبات کا شکار ہیں۔ اتحاد، یقین اور قربانی کے وہ جذبے جو تحریکِ پاکستان کا خاصا تھے، آج بکھرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ نوجوان نسل جو کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتی ہے، بے راہ روی، مایوسی اور غیر یقینی کا شکار ہے۔ ان کے پاس نہ مناسب تعلیم ہے، نہ روزگار اور نہ ہی کوئی واضح سمت۔ جب قوموں کے نوجوان منزل سے نا آشنا ہو جائیں تو ان کی ترقی کا خواب فقط خواب ہی رہ جاتا ہے۔ ہمیں ایک ایسی سوچ اپنانا ہوگی جو صرف ذات تک محدود نہ ہو بلکہ قوم کی فلاح پر مبنی ہو۔ ہم سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ملک سلامت ہے تو ہم سب سلامت ہیں، اگر ریاست کمزور ہوئی تو ہم میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
تعلیم وہ ہتھیار ہے جس سے ہم نہ صرف غربت، جہالت اور شدت پسندی کا خاتمہ کرسکتے ہیں بلکہ ایک پر امن، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ بھی قائم کر سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی نصاب پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایسا نصاب جو تحقیق، تخلیق اور تنقیدی سوچ کو فروغ دے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنا ہوگا تاکہ وہ بدلتی ہوئی دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ صرف رٹا سسٹم سے قومیں ترقی نہیں کرتیں بلکہ علمی و فکری بیداری ہی اصل اثاثہ ہوتی ہے۔سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکن، ادیب، شاعر، اور فنکار بھی قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان سب کو چاہیے کہ وہ اپنے ہنر، قلم اور اثر و رسوخ کو مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ معاشرے میں برداشت، رواداری اور محبت کو فروغ دیا جا سکے۔ فرقہ واریت، تعصب اور نفرت کے بیج بونے والوں کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔دوستیاں، اتحاد اور معاہدے صرف جذبات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں۔ کشمیر کا مسئلہ آج بھی ایک کھلا زخم ہے۔ ہمیں ہر فورم پر اس مسئلے کو اجاگر کرنا ہوگا، مگر اس کے لیے ہمیں سفارتی مہارت، داخلی اتحاد اور بین الاقوامی قوانین سے واقفیت کی ضرورت ہے۔ فلسطین، یمن، روہنگیا، اور دیگر مظلوم اقوام کے لیے آواز بلند کرنا ہماری اخلاقی ذمے داری ہے، مگر اس کے لیے ہمیں پہلے اپنی صفوں کو درست کرنا ہوگا۔
یوم آزادی کا دن ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا ادراک کریں، اپنے ماضی سے سبق سیکھیں، حال کو سنواریں اور مستقبل کے لیے واضح لائحہ عمل طے کریں۔ آزادی ایک نعمت ہے، مگر اس کی حفاظت، بقا اور استحکام کے لیے قربانی، شعور اور محنت درکار ہوتی ہے۔ ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا۔
کیا ہم نے اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا حق ادا کیا ہے؟ کیا ہم نے نئی نسل کے لیے ایک محفوظ، خوشحال اور پر امن پاکستان چھوڑا ہے؟اگر ان سوالات کے جواب نفی میں ہیں تو ہمیں خوشی کے بجائے فکر، جشن کے بجائے تجدیدِ عزم، اور نعروں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ دن ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم ذاتی، اجتماعی اور قومی سطح پر اپنے کردار کا ازسرنو جائزہ لیں۔ ہمیں وعدہ کرنا ہوگا کہ ہم اس ملک کو قائداعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کے مطابق ایک اسلامی، جمہوری، ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے دن رات محنت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرنا ہوگا ہیں بلکہ ضرورت ہے کے بجائے کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔