ہمارے لئے آئین اور جمہوریت سب سے بڑھ کر ہیں، صدر جمہوریہ ہند
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
دروپدی مرمو نے کہا کہ آپریشن سندور نے دکھایا کہ ہماری مسلح افواج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں جب بات آتی ہے تو وہ دہشتگردی کے مرکز اور تکنیکی صلاحیت کو تباہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صدر دروپدی مرمو نے 79ویں یوم آزادی کے موقع پر بھارتی قوم سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے ہم وطنوں کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سب کے لئے فخر کی بات ہے کہ ہر ہندوستانی یوم آزادی اور یوم جمہوریہ بڑے جوش و خروش سے مناتا ہے۔ صدر دروپدی مرمو نے کہا "میں یوم آزادی کے موقع پر آپ سب کو دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں، یہ ہم سب کے لئے فخر کی بات ہے کہ ہر ہندوستانی یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کو بڑے جوش و خروش سے مناتا ہے، یہ وہ دن ہیں جو خاص طور پر ہمیں اپنے قابل فخر ہندوستانی ہونے کی یاد دلاتے ہیں۔، ہماری جمہوریت سپریم ہے"۔ انہوں نے کہا "آزادی حاصل کرنے کے بعد، ہم جمہوریت کے راستے پر آگے بڑھے جہاں ہر بالغ کو ووٹ دینے کا حق ملا، دوسرے لفظوں میں ہم نے اپنے آپ کو اپنی تقدیر بنانے کا حق دیا، چیلنجوں کے باوجود ہندوستان کے لوگوں نے کامیابی کے ساتھ جمہوریت کو اپنایا، ہمارے لئے، ہمارا آئین اور ہماری جمہوریت سب سے زیادہ ہے۔
دروپدی مرمو نے کہا کہ اس سال ہمیں دہشت گردی کی لعنت کا سامنا کرنا پڑا، پہلگام میں معصوم شہریوں کو قتل کرنا بزدلانہ اور سراسر غیر انسانی تھا لیکن ہندوستان نے فیصلہ کن انداز میں اور پختہ عزم کے ساتھ جواب دیا۔ صدر جمہوریہ نے مزید کہا کہ آپریشن سندور نے دکھایا کہ ہماری مسلح افواج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں جب بات آتی ہے تو وہ دہشتگردی کے مرکز اور تکنیکی صلاحیت کو تباہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپریشن سندور دہشت گردی کے خلاف تاریخ میں ایک مثال کے طور پر جائے گا، جو ہمارے ردعمل میں سب سے زیادہ قابل توجہ تھا۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ جب ہم ماضی پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہمیں ملک کی تقسیم سے ہونے والے درد کو کبھی نہیں بھولنا چاہیئے، آج ہم تقسیم کی ہولناکی کا دن منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم کے نتیجے میں خوفناک تشدد ہوا اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، آج ہم ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جو تاریخ کی غلطیوں کا شکار ہوئے۔
صدر دروپدی مرمو نے کہا کہ ہمارے آئین میں جمہوریت کے چار ستونوں کے طور پر چار اقدار کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہیں انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارہ۔ یہ ہمارے تہذیبی اصول ہیں، جن کو ہم نے جدوجہد آزادی کے دوران دوبارہ دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان برابر ہے اور سب کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت اور تعلیم تک سب کو یکساں رسائی حاصل ہونی چاہیئے، سب کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں، روایتی نظام کی وجہ سے محروم رہنے والوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہم نے 1947ء میں ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔ طویل عرصے تک غیر ملکی حکمرانی کے بعد، آزادی کے وقت ہندوستان انتہائی غربت میں تھا، لیکن اس کے بعد کے 78 سالوں میں، ہم نے تمام شعبوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک خود کفیل ملک بننے کی راہ پر گامزن ہے اور بڑے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دروپدی مرمو نے کہا انہوں نے کہا کہ لئے تیار ہیں یوم آزادی آزادی کے کے ساتھ کے لئے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔