پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن )خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور آسمانی آفات نے تباہی مچا دی۔

تفصیلات کے مطابق باجوڑ، دیر لویر اور بالاکوٹ سے ہولناک واقعات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جہاں آسمانی بجلی گرنے، چھتیں گرنے اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث متعدد انسانی جانیں ضائع ہو گئیں، جب کہ کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

تحصیل سالارزو جبراڑی میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق علاقے میں شدید طوفانی بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد گھروں کو نقصان پہنچا ہے، کئی افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

 دہشت گردی کسی کی ایما ء پرہوتی ہے اور اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ فرقہ واریت کی آڑ میں دینی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کو مروا دیا جائے

تحصیل میدان سوری میں طوفانی بارش کے باعث ایک رہائشی مکان کی چھت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ ملبے تلے دبے 7 افراد کو نکال لیا گیا، جن میں سے 3 جاں بحق اور 4 زخمی ہو گئے۔

ریسکیو ٹیموں کا کہنا ہے کہ ملبے میں مزید افراد کی موجودگی کا امکان ہے اور ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے۔

ادھر بالاکوٹ کے علاقے مہانڈری میں واقع منور بیلہ کے مقام پر دیر سے تعلق رکھنے والے تین مزدور فلیش فلڈ کے باعث دو نالوں کے درمیان پھنس گئے تھے۔

تینوں افراد نوید اللہ، سجاد اور عیان خان ٹربائن پر کام کے بعد واپس جا رہے تھے جب طغیانی کی زد میں آ گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تینوں کو زندہ بچا لیا۔

 بزرگوں کی نشانیاں دل کا سکون ہو تی ہیں، وہ 2گھنٹے صدیوں پر محیط تھے،میرے لئے وہ فرشتہ تھے،اللہ کو ویسے بھی 2باتیں بہت پسند ہیں ایک شکر دوسرا صبر

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا