75 سالہ شخص خاتون اے آئی کی محبت میں گرفتار، اہلیہ کو طلاق دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
مصنوعی ذہانت نے انسانوں کے جذبات اور تعلقات پر گہرا اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں چین میں پیش آنے والا ایک انوکھا واقعہ اس کی مثال ہے، جہاں ایک بزرگ شخص نے اے آئی سے تخلیق شدہ لڑکی کی محبت میں اپنی بیوی سے طلاق لینے کی ٹھان لی۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح انسانی جذبات اور وابستگیوں کو بدل رہی ہے۔
چین کے 75 سالہ بزرگ جیانگ سوشل میڈیا پر وقت گزارتے ہوئے ایک ایسی لڑکی کی تصویر پر رُک گئے جو اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کی گئی تھی۔ اس لڑکی کا چہرہ اور حرکات اس قدر حقیقی معلوم ہو رہی تھیں کہ جیانگ، لاعلمی کی وجہ سے، اسے ایک حقیقت میں موجود شخص سمجھ بیٹھے۔
ابتدا میں یہ معاملہ معمولی لگا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جیانگ اس ورچوئل لڑکی کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگے۔ اس کی طرف سے آنے والے سادہ پیغامات اور باتیں بھی ان کے لیے خوشی کا باعث بننے لگیں۔ ان کا دن اس بات پر منحصر ہونے لگا کہ کب فون پر اس ڈیجیٹل لڑکی کا پیغام موصول ہو۔
ایک دن جب جیانگ کی بیوی نے ان پر فون کے حد سے زیادہ استعمال پر تنقید کی تو جیانگ نے اعلان کر دیا کہ وہ اپنی بقیہ زندگی اس اے آئی لڑکی کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں، اور اسی لیے اپنی بیوی سے علیحدگی چاہتے ہیں۔
جب یہ بات بچوں تک پہنچی تو انہوں نے فوراً اپنے والد کو حقیقت سے آگاہ کیا کہ یہ لڑکی دراصل ایک اے آئی ماڈل ہے، جس کا کوئی جسمانی وجود نہیں۔ یہ ماڈل انسانی جذبات کے مطابق بات کرتا ہے اور یہ سب ایک طرح کا کھیل ہے۔ بچوں کی وضاحت اور رہنمائی سے جیانگ کو حقیقت سمجھ آئی اور انہوں نے بیوی سے دوبارہ تعلقات بحال کر لیے۔
چین میں اس نوعیت کے واقعات نئے نہیں۔ خاص طور پر بزرگ افراد، جو تنہائی اور جسمانی مسائل کا شکار ہوتے ہیں، اے آئی سے تیار شدہ مواد کا زیادہ استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ غیر حقیقی ڈیجیٹل شخصیات نہ صرف جذباتی خلا کو پُر کرتی ہیں بلکہ صارفین کو خریداری پر بھی مائل کرتی ہیں، جو کہ دراصل ایک تجارتی حکمت عملی ہے۔
اے آئی اب عوامی رائے اور جذبات کو متاثر کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بزرگ شہریوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی ان کے جذباتی کمزوری کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت نے زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن اس کا غیر متوازن اور غیر محتاط استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو اس ٹیکنالوجی کی باریکیوں کو نہیں سمجھ پاتے۔ اس چینی بزرگ کا واقعہ ایک واضح مثال ہے کہ ہمیں اے آئی کے فوائد اور نقصانات دونوں کو سمجھتے ہوئے ہی اسے استعمال کرنا چاہیے، تاکہ خاص طور پر بزرگوں کی حفاظت ممکن ہو سکے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اے آئی
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین