پی ٹی آئی رکن اسمبلی شیر علی ارباب کو خواجہ آصف کے ہمراہ مسلح افواج کے سربراہ کے گزرنے تک سڑک پر رک کر انتظار کرنا پڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے انکشاف کیا ہے کہ مسلح افواج کے سربراہان کیلئے کانسٹیٹیوشن ایونیو پر روٹ لگایا گیا جہاں مجھے 15 منٹ انتظار کرنا پڑا لیکن یہ سن کر حوصلہ ہواکہ خواجہ آصف بھی اپنے ماتحتوں کے گزرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ تقریبا رات ایک بجے جب میں پارلیمنٹ لاجز سے نکل رہا تو مجھےروک دیا گیا کیونکہ کانسٹیٹیوشن ایونیو پر آرمی ، ایئر فورس اور نیوی کے چیفس کیلئے روٹ لگایا گیا تھا ، مجھے وہاں پر 15 منٹ انتظار کرنا پڑا جس دوران 5سے 6 قافلے گزرے جس میں 80 سے زائد ملٹری کی گاڑیاں تھیں، بطور رکن اسمبلی مجھے اس طرح روکے جانا بہت عجیب لگا لیکن مجھے اس وقت کچھ حوصلہ ہوا جب ٹریفک وارڈن نے بتایا کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی اپنے ’ماتحتوں‘ یعنی سروسز چیفس کے گزرنے کا انتظار کر رہے ہیں ، جشن آزادی مبارک ہو۔
بھارت کے پاس جنگی طیاروں کے اپنے انجن ہونے چاہئیں، بھارتی وزیراعظم
While leaving the Parliament Lodges at around 1 am earlier, I was stopped at a route set for the Services (Army, Air Force, Navy) Chiefs on the Constitution Avenue.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔