صنعتی اور سپیشل اکنامک زونز کیلئے ایک پوانیٹ پر بجلی فراہمی میں بڑی پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
اویس کیانی :پاور ڈویژن نے صنعتی و خصوصی اقتصادی زونز کو ایک پوائنٹ پر بجلی کی فراہمی کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نیپرا کے فیصلے کے مطابق فوری اقدامات کی ہدایت دے دی۔
وفاقی وزیر سردار اویس لغاری نے ہدایت کی ہے کہ کمپنیوں کو زونز کی انتظامیہ سے رابطہ کر کے معاہدے فوراً فائنل کرنے چاہئیں۔
نیپرا نے 11 اگست کو مشاورت کے بعد ان زونز کو ایک پوائنٹ پر بجلی فراہمی کی منظوری دی تھی، اس اقدام سے بجلی کی بلنگ اور فراہمی کے عمل میں شفافیت آئے گی اور تقسیم کار کمپنیوں کی غیر ضروری مداخلت و کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔
پاور ڈویژن نے کابینہ سے اجازت کے بعد 25فروری کو نیپرا میں ان زونز کو ایک پوائنٹ پر بجلی فراہمی سے متعلق درخواست دی تھی،نیپرا نے مشاورت کے بعد 11اگست کو ان زونز کے ساتھ گفت و شنید کی بنیاد پر حتمی معاہدے کرنے کی ہدایت دی تھی۔
محکمہ داخلہ کے کنٹرو ل روم سے صوبے کے تمام حساس جلوسوں کی لائیو مانیٹرنگ جاری
وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری کی جانب سے تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو سپیشل اکنامک زونز اور انڈسٹریل اسٹیٹس کے ساتھ فوری عمل کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پر بجلی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔