چہلم امام حسینؑ کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
حیدرآباد، کراچی، لاہور، راولپنڈی، خانپور، رحیم یار خان، میانوالی سمیت ملک بھر میں حضرت امام حسینؑ کے چہلم کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت اور غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
تمام شہروں میں امام بارگاہوں، مجالس اور مرکزی جلوسوں کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز سے کی جارہی ہے، جبکہ کئی شہروں میں موبائل فون سروس بھی معطل ہے۔
کراچی میں چہلم کے موقع پر 11 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ نشتر پارک سے برآمد ہونے والا مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا حسینیہ ایرانیان کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا۔
ایم اے جناح روڈ اور اطراف کی گلیاں کنٹینرز سے بند ہیں، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جلوس کے راستوں کی کلیئرنس مکمل کر لی ہے، جب کہ ٹریفک کے لیے متبادل راستے دیے گئے ہیں۔ شہر میں دفعہ 144 نافذ اور بعض مقامات پر موبائل فون سروس بند ہے۔
حیدرآباد میں مرکزی جلوس اور امام بارگاہوں کی سیکیورٹی کے لیے 1600 سے زائد افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ روف ٹاپس پر بھی سیکیورٹی اہلکار موجود ہیں اور جلوس کی مانیٹرنگ سینٹرل کنٹرول روم سے کی جا رہی ہے۔
لاہور میں حویلی الف شاہ سے مرکزی جلوس برآمد ہوا جو اپنے قدیمی راستوں پر گامزن ہے۔ برآمدگی سے قبل علامہ صبیح حیدر شیرازی نے مجلس سے خطاب کیا۔
راولپنڈی میں امام بارگاہ عاشق حسین تیلی محلہ سے مرکزی جلوس برآمد ہوا، شہر میں میٹرو بس سروس راولپنڈی صدر اسٹیشن سے فیض آباد تک معطل ہے۔ 4000 سے زائد پولیس اہلکار، 200 ٹریفک وارڈنز اور سنائپرز جلوس کی سیکیورٹی پر مامور ہیں۔
خانپور میں آستان لوہاراں سے مرکزی جلوس برآمد ہوا جو اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا رات 9 بجے گولڈن پھاٹک پر اختتام پذیر ہوگا۔ داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے خواتین پولیس اہلکار بھی تعینات کی گئی ہیں۔
رحیم یار خان میں امام بارگاہ لنگر حسینی سے جلوس برآمد ہوا، راستوں پر سبیل اور لنگر کا اہتمام ہے، جب کہ 2 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔
میانوالی میں وادی اسلام سے جلوس برآمد ہوا، جلوس کے تمام راستے خار دار تاروں سے بند کر دیے گئے ہیں اور سی سی ٹی وی نگرانی جاری ہے۔
ملک کے مختلف شہروں میں علم، تعزیہ اور ذوالجناح کے جلوسوں میں عزاداران کی بڑی تعداد شریک ہے، جبکہ سیکیورٹی ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جلوس برآمد ہوا مرکزی جلوس گئے ہیں
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔