پاکستان کی نام نہاد گریٹر اسرائیل کی تخلیق سے متعلق اسرائیل کے بیانات کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
پاکستان کی نام نہاد گریٹر اسرائیل کی تخلیق سے متعلق اسرائیل کے بیانات کی شدید مذمت WhatsAppFacebookTwitter 0 15 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان نے گریٹر اسرائیل سے متعلق حالیہ اسرائیلی بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان 1967سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسرائیلی بیانات میں غزہ سے فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی کی طرف اشارہ کیا گیا۔ پاکستان اسرائیلی قابض طاقت کے حالیہ بیانات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ عالمی برادری بھی ایسے اشتعال انگیز تصورات کو یکسر مسترد کرے، جو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ایسے اشتعال انگیز تصورات غیر قانونی قبضے کو مستقل بنانے کے ارادے کی عکاسی کرتے ہیں اور خطے میں امن کی کوششوں کی توہین ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض طاقت کو مزید عدم استحکام پھیلانے سے روکے اور فلسطینیوں کے خلاف مظالم ختم کرانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ پاکستان نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشمالی وزیرستان میں 4روز کیلئے کرفیو نافذ کردیا گیا،نوٹیفکیشن جاری شمالی وزیرستان میں 4روز کیلئے کرفیو نافذ کردیا گیا،نوٹیفکیشن جاری پاکستان کیلئے خدمات پر غیرملکیوں سمیت 263اہم شخصیات کو سول ایوارڈز دینے کا اعلان پاکستان اور مائیکرونیشیا میں باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات کا آغاز ہوگیا اسلام آباد میں مدنی مسجد کوشہید کرنے کا معاملہ ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ، چیئرمین سی ڈی اے و دیگر کیخلاف اندراج... اسلام آباد میں مسجد کی شہادت پر علما کمیٹی کا تعمیر نو کا اعلان، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں پختونخوا میں سیلابی ریلوں سے تباہی، 4اضلاع آفت زدہ قرار، 146سے زائد جاں بحق، صرف بونیر میں 75اموات کی تصدیق
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔