Islam Times:
2026-06-03@07:36:11 GMT

اربعین کا عالمی سافٹ ویئر

اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT

اربعین کا عالمی سافٹ ویئر

اسلام ٹائمز: اربعین ایک تیار ثقافتی سافٹ ویئر ہے جو آنے والی نسل کو کم قیمت پر حسینی اور مستحکم بننے کی تربیت دے سکتا ہے۔ اس سنہری موقع کو پہچاننے کی ضرورت ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے اور اس سے پوری طرح بہرہ مند ہونے کے لیے اس کے ساتھ منصوبہ بندی، تعاون اور پرعزم معلمین کی موجودگی ضروری ہے۔ اگر ہم آج یہ پودا لگائیں تو کل یہ ناصران امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی صف میں پھل لائے گا۔ تحریر: محمد جواد نظافت
 
اربعین (چہلم امام حسین علیہ السلام) کی زیارت صرف ایک طویل فاصلے تک پیدل چلنے کا سفر نہیں ہے بلکہ یہ راستہ ایک درسگاہ ہے جہاں ارادے پرورش پاتے ہیں اور روحوں کی تربیت ہوتی ہے۔ شاید یہ پیدل سفر زائر کو جو سب سے اہم سبق سکھاتا ہے وہ "جدوجہد" ہے۔ اس معنی میں نہیں کہ جسم کو تکلیف پہنچائی جائے بلکہ روح کی مشق اور نفس امارہ (انانیت) کے خلاف جہاد کے معنی میں ہے۔ ہر انسان کے وجود کے دو پہلو ہیں: عقلی اور حیوانی۔ حیوانی پہلو اس انانیت پر مشتمل ہے جو اگر عقل پر غالب آ جاتی ہے تو انسان کو انسانیت کی راہ سے زوال کے پاتال کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "اگر عقل شہوت پر غالب آ جائے تو انسان فرشتے سے افضل ہے اور اگر شہوت عقل پر غالب ہو جائے تو وہ حیوان سے بھی زیادہ پست ہو جاتا ہے۔"
 
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ہم ایک فعال حیوانی پہلو کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جبکہ ہماری عقل سوئی ہوئی ہوتی ہے اور صرف تعلیم و تربیت کے ذریعے ہی بیدار ہوتی ہے۔ اربعین واک اسی تعلیم و تربیت کا ایک پیش خیمہ ہے۔ اس راستے پر انسان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہی مشکلات اس بات کا سنہری موقع فراہم کرتی ہیں کہ انسان میں عقل کا پہلو مضبوط ہو اور وہ انسانی وجود کی کمان اپنے ہاتھ میں لے سکے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ روحانیت کے میدان کے بہت سے ہیرو اور عظیم شخصیات کے مالک انسان اسی میدان میں تربیت پائے ہیں۔ جس طرح دفاع مقدس کے دوران بہت سے شہداء ماضی میں اچھا انسان ہونے کے باوجود محاذ جنگ پر اپنے کمال کے عروج تک پہنچے۔
 
اگر ہم نے آج خودسازی کا مرحلہ طے نہ کیا تو کل امتحان کے میدان میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے ماضی میں کربلا کے موقع پر آرام پسند اور سست عناصر نے امام حسین علیہ السلام کو تنہا چھوڑ دیا۔ خودسازی کے بغیر انسان ایسے حساس مراحل پر کامیابی حاصل نہیں کر پاتا۔ اربعین کا سفر مشقت اور لذت کا امتزاج ہے۔ تھوڑی سی پیاس اور گرمی اور پھر ٹھنڈی ہوا کا جھونکا یا پانی کا ایک گھونٹ وہ لذت دیتا ہے جو مستقل خوشحالی میں نہیں ملتا۔ یہ امتزاج جدوجہد کی بہترین شکل ہے کیونکہ سراسر سختی دل کو تکلیف دیتی ہے لیکن اربعین اس توازن کے ساتھ روح کو لچک دار اور خوش مزاج بنا دیتا ہے۔ اس بات کا تذکرہ ائمہ معصومین علیہ السلام کے فرامین اور سیرت میں بھی کثرت سے ملتا ہے۔
 
امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں: "میں تقوی کے ذریعے اپنے نفس کو مشقت میں مبتلا کرتا ہوں تاکہ روز قیامت پرسکون رہوں اور دنیا میں حساس مواقع پر خطا سے محفوظ ہو جاوں"۔ اربعین اسی استقامت کے لیے ایک مشق ہے۔ اگر ہم آج اس مشکل مگر پرلطف راستے پر چلتے ہیں تو کل دنیا اور آخرت کے راستے پر مضبوطی سے کھڑے ہوں گے۔
انفرادیت سے ماوراء ہو جانا
یہ سفر صرف ایک انفرادی تجربہ نہیں ہے بلکہ "اجتماعی زندگی" کی ایک مشق ہے۔ اسلام اجتماعی سرگرمیوں پر زور دیتا ہے: "نیک کاموں اور پرہیزگاری میں ایکدوسرے سے تعاون کرو۔" گروہی سرگرمی لوگوں کو کئی گنا زیادہ توانائی دیتی ہے اور نوجوان کو انفرادیت سے مثبت اجتماعیت کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ اجتماع ایک مشترکہ روح کا حامل ہے جو اس کے اجزا کو متاثر کرتا ہے۔
 
مہدوی معاشرے کی جھلک
دوسری طرف، اربعین "مہدوی مطلوبہ معاشرے" کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس راستے پر اہلسنت برادران، عیسائی اور حتی غیر مسلم بھی خوشی سے خدمت کرتے ہیں۔ سب ایک ہی میز پر بیٹھتے ہیں اور انسانی وقار اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ یہ وہ تصویر ہے جسے بڑی طاقتوں کا میڈیا دکھانے سے ڈرتا ہے کیونکہ یہ شان و شوکت فطرت کو بیدار کرتی ہے اور دلوں کو اسلام کی طرف راغب کرتی ہے۔
مستقبل کے لیے سرمایہ کاری
نوجوانوں کو اربعین کے لیے بھیجنے پر جو اخراجات کیے جاتے ہیں وہ درحقیقت ایک سرمایہ کاری ہے جو انہیں بہت سے سماجی نقصانات سے بچاتی ہے.

اگر آج اس سفر پر اخراجات نہ کیے جائیں تو کل ہمیں جیلوں اور برائیوں کی روک تھام پر کئی گنا زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔
 
حتی وہ گھرانے جن کے بچے نہیں ہیں وہ بھی دوسروں کے بچوں کی تربیت میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ "باقیات الصالحات" میں سے ایک ہے جس کا اجر اور ثواب سالوں اور نسلوں تک باقی رہے گا۔
ایک تیار ثقافتی سافٹ ویئر
اربعین ایک تیار ثقافتی سافٹ ویئر ہے جو آنے والی نسل کو کم قیمت پر حسینی اور مستحکم بننے کی تربیت دے سکتا ہے۔ اس سنہری موقع کو پہچاننے کی ضرورت ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے اور اس سے پوری طرح بہرہ مند ہونے کے لیے اس کے ساتھ منصوبہ بندی، تعاون اور پرعزم معلمین کی موجودگی ضروری ہے۔ اگر ہم آج یہ پودا لگائیں تو کل یہ ناصران امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی صف میں پھل لائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علیہ السلام سافٹ ویئر کی تربیت راستے پر کے ساتھ اگر ہم ہے اور کے لیے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار