امریکا میں غیر ملکی زبانوں کی فلموں کو مقبول بنانے کی راہ میں ہمیشہ سے ایک بڑی رکاوٹ زبان رہی ہے۔ تاہم اب ایک نئی اے آئی ٹیکنالوجی اس رکاوٹ کو آسانی سے عبور کرنے کی امید جگا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت اور ملازمتوں کا مستقبل: خطرہ، تبدیلی یا موقع؟

لاس اینجلس میں قائم آزاد فلمی ادارہ  ایکس وائی زیڈ فلمز کے چیف آپریٹنگ آفیسر میکزیم کوٹری کا کہنا ہے کہ امریکا میں غیر ملکی زبانوں کی فلموں کا دائرہ ہمیشہ محدود رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف نیویارک کے ساحلی آرٹ ہاؤس سنیما گھروں تک محدود رہا ہے۔

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ جزوی طور پر زبان کا ہے۔

مزید پڑھیے: مصنفین مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں کام کھو بیٹھنے کے خدشے کا شکار

“میکزیم کوٹری کا کہنا ہے کہ امریکا کی ثقافت ویسی نہیں ہے جیسی یورپ کی ہے جہاں لوگ سب ٹائٹلز یا ڈبنگ کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔

کیا زبان کا مسئلہ حل ہوجائے گا؟

اب یہی زبان کی رکاوٹ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہٹائی جا رہی ہے۔

حال ہی میں ایک سویڈش سائنس فکشن فلم ’واچ دی اسکائز‘ کو ایک جدید اے آئی ٹول کے ذریعے انگریزی زبان میں ڈب کیا گیا۔ ڈیپ ایڈیٹر نامی یہ ٹول نہ صرف آواز تبدیل کرتا ہے بلکہ ویڈیو میں اداکاروں کے ہونٹوں کی حرکت کو بھی اس طرح بدلتا ہے کہ وہ اصل میں انگریزی بولتے دکھائی دیں۔

میکزیم کوٹری اس ٹیکنالوجی سے بہت متاثر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ

انہوں نے کہا کہ جب 2 سال پہلے میں نے پہلی بار اس ٹیک کی مثال دیکھی تو لگا کہ اچھی ہے لیکن اب جو کٹ میں نے دیکھی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ میں پر یقین ہوں کہ عام ناظر کو بالکل اندازہ نہیں ہوگا کہ یہ اصلی زبان نہیں ہے۔

اے آئی ڈبنگ کی بدولت  ’واچ دی اسکائیز‘ کو مئی 2025 میں امریکا کے 110 سنیما گھروں میں ریلیز کیا گیا۔

کوٹری کا کہنا ہے کہ اگر یہ فلم انگریزی میں ڈب نہ ہوتی تو کبھی بھی امریکی سنیما گھروں میں ریلیز نہ ہو پاتی۔

مزید پڑھیں: اے آئی نے ویب سائٹس کا مستقبل تاریک کردیا، حل کیا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک آزاد سویڈش فلم امریکی عوام کے سامنے آئی جو ایک ایسی فلم ہے جو عام حالات میں صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود رہتی۔

اے ایم سی تھیٹرز نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اسی  اے آئی ڈبنگ ماڈل کے تحت مزید غیر ملکی فلمیں امریکی مارکیٹ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی اور فلموں کی ڈبنگ فلموں کی ڈبنگ فلموں کی ڈبنگ اور مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی اور فلموں کی ڈبنگ فلموں کی ڈبنگ فلموں کی ڈبنگ اور مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت اے ا ئی

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ