سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ، بونیر میں سب سے زیادہ 157 ہلاکتیں ہوئیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر کے علاقے پیر بابا اور چغرزئی میں 157 افراد جاں بحق ہوئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق ضلع بونیر کے علاقے پیر بابا میں ایک ہی گھر کے 20 افراد مکان کے ملبے میں دب کر جاں بحق ہوئے ہیں، کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں سے اموات بڑھنے کا خدشہ ہے۔
خیبر پختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث تباہی کے مناظرصوبہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر.
ڈپٹی کمشنر بونیر کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے سیلاب میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ، بارشوں اور سیلابی ریلوں سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سے متعلق پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبے میں اموات کی تعداد 210 سے تجاوز کرگئی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ نقصان ضلع بونیر میں ہوا، بونیر کے 12 سے زیادہ دیہات کلاؤڈ برسٹ سے شدید متاثر ہوئے، جہاں اموات کی تعداد 157 تک پہنچ گئی ہے۔
کلاؤڈ برسٹ کے بعد سیلاب کئی گاؤں بہا لے گیا، مکینوں کے آشیانے گر گئے، سیلابی ریلوں میں جانور اور گاڑیاں بھی بہہ گئیں، بونیر میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی۔
سوات میں دریا بپھرا تو راستے میں آنے والی ہر شے کو تنکوں کی طرح بہا لے گیا، مینگورہ سے گزرنے والی ندی کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، پانی کے ریلے رابطہ پلوں تک پہنچ گئے، باجوڑ میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 21 افراد جاں بحق ہوئے، مانسہرہ کے گاؤں ڈھیری حلیم میں رات گئےکلاؤڈ برسٹ کے بعد سیلابی ریلے میں بہنے والے 16 افراد کی لاشیں بٹگرام سے نکال لی گئیں، بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کلاؤڈ برسٹ برسٹ کے
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔