خیبر پختونخوا کے ضلع  بونیر کے علاقے پیر بابا اور چغرزئی میں 157 افراد جاں بحق ہوئے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق ضلع بونیر کے علاقے پیر بابا میں ایک ہی گھر کے 20 افراد مکان کے ملبے میں دب کر جاں بحق ہوئے ہیں، کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں سے اموات بڑھنے کا خدشہ ہے۔

خیبر پختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث تباہی کے مناظر

صوبہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر.

..

ڈپٹی کمشنر بونیر کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے سیلاب میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ، بارشوں اور سیلابی ریلوں سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سے متعلق پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبے میں اموات کی تعداد 210 سے تجاوز کرگئی۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ نقصان ضلع بونیر میں ہوا، بونیر کے 12 سے زیادہ دیہات کلاؤڈ برسٹ سے شدید متاثر ہوئے، جہاں اموات کی تعداد 157 تک پہنچ گئی ہے۔

کلاؤڈ برسٹ کے بعد سیلاب کئی گاؤں بہا لے گیا، مکینوں کے آشیانے گر گئے، سیلابی ریلوں میں جانور اور گاڑیاں بھی بہہ گئیں، بونیر میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی۔

سوات میں دریا بپھرا تو راستے میں آنے والی ہر شے کو تنکوں کی طرح بہا لے گیا، مینگورہ سے گزرنے والی ندی کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، پانی کے ریلے رابطہ پلوں تک پہنچ گئے، باجوڑ میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 21 افراد جاں بحق ہوئے، مانسہرہ کے گاؤں ڈھیری حلیم میں رات گئےکلاؤڈ برسٹ کے بعد سیلابی ریلے میں بہنے والے 16 افراد کی لاشیں بٹگرام سے نکال لی گئیں، بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کلاؤڈ برسٹ برسٹ کے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن