باجوڑ میں کلاوڈ برسٹ سے 9 جبکہ مانسہرہ میں سیلابی ریلے کے حادثے میں 2 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ کے علاقہ سلارزئی میں 14 اور 15 اگست کی درمیانی رات اچانک شدید کلاوڈ برسٹ کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
کئی گھر منہدم ہو گئے جبکہ ریسکیو 1122 اہلکاروں نے مقامی افراد کے تعاون سے اب تک 9 ہلاک شدگان اور 4 زخمیوں کو ملبے اور پانی سے نکال کر فوری طبی امداد کے بعد اسپتال منتقل کردیا۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر امجد خان کی نگرانی میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، اور مقامی افراد کے مطابق اب بھی قریباً 17 افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر باجوڑ اور ضلعی حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن کی ذاتی نگرانی کر رہے ہیں۔
صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر بھی روانہ کیا گیا تاکہ امدادی کارروائیوں کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے دیر اور سوات سمیت تمام متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی۔
دوسری جانب، مانسہرہ کے علاقے بسیاں میں سیلابی ریلے کے باعث ایک مہران کار بہہ گئی۔ ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی غوطہ خور ٹیم جائے حادثہ پر پہنچ گئی۔
گاڑی میں 6 افراد سوار تھے جن میں سے 3 کو موقع پر زندہ بچا لیا گیا، 2 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔
جاں بحق ہونے والوں میں میر حمزہ (30 سال) اور اسد (25 سال) شامل ہیں، جبکہ زخمی ہونے والا مانی (20 سال) ہے۔
ریسکیو 1122 مانسہرہ نے امدادی کارروائیاں بروقت مکمل کر کے متاثرہ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسیاں خیبر پختونخوا ڈپٹی کمشنر باجوڑ سلارزئی ضلع باجوڑ علی امین گنڈاپور کلاوڈ برسٹ مانسہرہ مہران کار بہہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بسیاں خیبر پختونخوا ڈپٹی کمشنر باجوڑ سلارزئی ضلع باجوڑ علی امین گنڈاپور کلاوڈ برسٹ مہران کار بہہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا خیبر پختونخوا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔