مانسہرہ: سرن ویلی میں پھنسے 1300 سیاح محفوظ مقام پر منتقل
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
—تصویر سوشل میڈیا
مانسہرہ سرن ویلی فیملی پارک کے قریب نالے میں طغیانی کے بعد سرن ویلی میں پھنسے 1300 سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
پشاور سے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر کے مطابق آج سرن ویلی فیملی پارک میں کافی رش تھا۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر نے بتایا ہے کہ پارک سمیت ملحقہ علاقوں سے بھی سیاحوں کو نکال لیا گیا ہے۔
دریں اثناء اپر کوہستان میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق پانی کی سطح بلند ہونے پر قراقرم ہائی وے ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ریسکیو ٹیم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہے، اپر کوہستان میں ریسکیو 1122 کی امدادی کارروائی جاری ہے۔
دوسری جانب دریائے گلگت میں پانی کا بہاؤ تیز ہوگیا ہے۔
ترجمان جی بی حکومت کے مطابق نشیبی علاقے خالی کرنےکی ہدایت کی گئی ہے۔
گلگت سے فیض اللّٰہ فراق کے مطابق چنار باغ کے اردگرد آبادی کو محتاط رہنےکی ہدایت کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔