بونیر میں تباہ کن سیلاب، پورا گاؤں پانی میں بہہ گیا، 75 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں طوفانی بارشوں اور پہاڑی ندی نالوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے پورے گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔
سرکاری اور مقامی حکام کے مطابق کم از کم 75 افراد جاں بحق جبکہ متعدد لاپتہ ہیں, مرنے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق پیر بابا اور گردونواح کے گاؤں اچانک آنے والے آبی ریلے کی لپیٹ میں آگئے، جس سے درجنوں مکانات منہدم اور کھیت، باغات، مال مویشی سب بہہ گئے۔ مقامی اسپتال میں لائی جانے والی 56 لاشوں میں 25 خواتین اور 18 بچے شامل ہیں۔ڈپٹی کمشنر بونیر نے تصدیق کی ہے کہ بارشوں کے بعد آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے پورے علاقے کو تباہ کر دیا، رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے اور امدادی ٹیموں کو متاثرہ دیہات تک پہنچنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا سلسلہ آئندہ 24 گھنٹے جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے مزید سیلابی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے، جبکہ پاک فوج اور ریسکیو 1122 کے اہلکار امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پانی کا ریلا اتنا تیز تھا کہ لوگ سنبھلنے کا موقع نہ پا سکے اور چند ہی منٹوں میں پورا گاؤں ڈوب گیا۔ علاقے میں کہرام مچ گیا ہے اور متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.