بھارت کی پدم شری ایوارڈ یافتہ سابق تیراک بولا چودھری کے تمغے اور اعزازات چوری
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
بھارت کی نامور سابق تیراک اور پدم شری ایوارڈ یافتہ بولا چودھری کے آبائی گھر سے ان کی زندگی بھر کی کمائی سمجھے جانے والے تمغے اور یادگاریں چوری کرلی گئیں۔ بولا چودھری کا کہنا ہے کہ یہ ان کے ہوڑہ ضلع کے ہنڈ موٹر میں واقع مکان میں تیسری بڑی چوری ہے۔
بولا چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چور سب کچھ لے گئے جو میں نے اپنی محنت اور لگن سے پوری زندگی میں کمایا۔ میرے 6 ساؤتھ ایشین گیمز کے طلائی تمغے اور پدم شری کا بروچ بھی چرا لیا گیا۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف، انصار عباسی کے علاوہ اور کس نے ایوارڈ لینے سے معذرت کی؟
انہوں نے بتایا کہ چوروں نے تمام یادگار اشیا بھی چرا لیں تاہم ارجنا ایوارڈ اور تنزنگ نورگے میڈلز چھوڑ گئے، غالباً ان کی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے۔
بولا چودھری اس وقت اپنے خاندان کے ساتھ کلکتہ کے کاسبا علاقے میں مقیم ہیں جبکہ ان کے آبائی مکان کی دیکھ بھال ان کے بھائی ملن چودھری کرتے ہیں۔ واقعہ یوم آزادی کے موقع پر پیش آیا جب ملن گھر کی صفائی کے لیے پہنچے تو پچھلا دروازہ ٹوٹا اور کمرے اجڑے ہوئے پائے۔
مزید پڑھیں: شاہ رخ خان کے ایوارڈ پر جاری تنازع، کس بات پر شور مچ رہا ہے؟
بولا چودھری نے الزام لگایا کہ اس سے قبل بھی دو بار چوری ہوچکی ہے اور پولیس کو شکایت درج کروائی گئی تھی مگر کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ لوگ تمغے کیوں چرا رہے ہیں؟ انہیں اس سے پیسے تو نہیں ملیں گے۔ یہ میری زندگی کا سرمایہ اور میرے کیریئر کا حاصل ہیں۔ میرا گھر ہمیشہ اس لیے نشانہ بنتا ہے کیونکہ وہ اکثر خالی رہتا ہے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بولا چودھری پدم شری ایوارڈ یافتہ سابق تیراک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بولا چودھری پدم شری ایوارڈ یافتہ سابق تیراک بولا چودھری
پڑھیں:
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ اپ نے لاسٹ ٹائم گاڑی کی ٹینکی یا موٹر سائیکل کی ٹینکی کب فل کرائی تھی تو 100 میں سے تقریباً 90 لوگوں نے کہا کہ ان کو تو یاد ہی نہیں ہے کہ ٹینکی بھی کبھی فل کرائی تھی۔
گاڑی میں سوار اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ دو ہزار کا تو کبھی تین ہزار کا تو بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پٹرول ڈلوایا تھا جبکہ موٹر سائیکل سوار تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے، کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔
کچھ موٹرسائیکل سواروں نے 2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں۔
یہ تو مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں ۔
کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹینکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار کا تو کبھی ڈھائی ہزار کا پٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے کیونکہ بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا۔
اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی ایمرجنسی ہو تو تب گاڑی نکالی جاتی ہے جبکہ پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسییشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے، اب تو پٹرول پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے، تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔
بجلی کے بل پہلے جو پٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگ گئے ہیں اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے، جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ اکثر گھروں میں تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے۔
اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔
بہرحال پٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹینکی فل کرانا صرف ایک خواہش ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔