پاکستان کی فلم اور ٹی وی انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ہدایتکارہ سنگیتا نے اپنی زندگی کے تلخ ترین پہلوؤں کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے 100 سے زائد فلموں میں اداکاری کی اور اسی سے زیادہ فلموں کی کامیاب ہدایتکاری بھی کی، تاہم ذاتی زندگی میں انہیں کئی بڑے صدمات جھیلنے پڑے۔

سنگیتا حال ہی میں ٹی وی شو میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے بتایا کہ ان کی شادی ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی اور پچھتاوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار ان کی والدہ فلم کے سیٹ پر آئیں اور سب کے سامنے انہیں سخت برا بھلا کہا۔

مزید پڑھیں: ’شادی کے کارڈ چھپ چکے تھے‘، سلمان خان کیساتھ تعلق پر سنگیتا بجلانی نے خاموشی توڑ دی

وہ اس قدر دل شکستہ ہوئیں کہ دریائے سوات میں کود کر خودکشی کرنے لگیں مگر فلم کے ہیرو ہمایوں قریشی نے انہیں بچالیا۔ اگلے دن ہمایوں قریشی کو شادی کی پیشکش کی اور والدین کی مخالفت کے باوجود شادی کرلی، لیکن یہ رشتہ صرف 3 سال قائم رہا۔ اس شادی سے ان کی 3 بیٹیاں ہیں جنہیں انہوں نے اکیلے پالا۔

اداکارہ نے ایک اور کربناک پہلو بھی بتایا کہ انہوں نے اپنی بڑی بیٹی کی شادی محض 16 برس کی عمر میں کردی، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ لوگ بطور اداکارہ کی بیٹی پر باتیں نہ بنائیں۔

مزید پڑھیں: بالی ووڈ اسٹار سلمان خان میری نقل کرتے تھے، گلوکار حسن جہانگیر

تاہم یہ فیصلہ ان کی بیٹی کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوا اور سنگیتا آج بھی اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی مانتی ہیں۔ انہوں نے والدین کو نصیحت کی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ سختی نہ کریں اور ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرانے۔

سنگیتا نے بتایا کہ سال 2000 میں انہیں ہیپاٹائٹس سی ہوا جس کے بعد ڈاکٹرز نے انہیں موت کی خبر تک سنا دی۔ وہ پاکستان اور بھارت دونوں جگہ زیرِ علاج رہیں۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری اور صحتیاب ہونے کے بعد دوسروں کو بھی پیغام دیا کہ بیماری سے لڑنا چاہیے اور امید کبھی نہیں چھوڑنی چاہیے۔

مزید پڑھیں: عدالت نے بالی ووڈ اسٹار عامر خان کے بیٹے کی فلم ریلیز ہونے سے کیوں روک دی؟

اپنے بھائی کے انتقال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔ سنگیتا کے مطابق ان کے بھائی کی بیٹی بھارتی اداکارہ جیا خان تھیں، جو بھارت میں پراسرار حالات میں قتل ہوئیں۔ ان کے بھائی اپنی زندگی بھر بیٹی کے غم میں روتے رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان ٹی وی فلم معروف اداکارہ اور ہدایتکارہ سنگیتا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان ٹی وی فلم انہوں نے

پڑھیں:

گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ

​حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔

رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟

جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔

اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔

اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔

زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔

خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔

​نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔

​پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔

قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

​لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔

​یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیدہ سفینہ ملک

متعلقہ مضامین

  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں