روشنیوں کے پیچھے چھپے زخم، اداکارہ سنگیتا کی زندگی کے تلخ انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
پاکستان کی فلم اور ٹی وی انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ہدایتکارہ سنگیتا نے اپنی زندگی کے تلخ ترین پہلوؤں کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے 100 سے زائد فلموں میں اداکاری کی اور اسی سے زیادہ فلموں کی کامیاب ہدایتکاری بھی کی، تاہم ذاتی زندگی میں انہیں کئی بڑے صدمات جھیلنے پڑے۔
سنگیتا حال ہی میں ٹی وی شو میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے بتایا کہ ان کی شادی ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی اور پچھتاوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار ان کی والدہ فلم کے سیٹ پر آئیں اور سب کے سامنے انہیں سخت برا بھلا کہا۔
مزید پڑھیں: ’شادی کے کارڈ چھپ چکے تھے‘، سلمان خان کیساتھ تعلق پر سنگیتا بجلانی نے خاموشی توڑ دی
وہ اس قدر دل شکستہ ہوئیں کہ دریائے سوات میں کود کر خودکشی کرنے لگیں مگر فلم کے ہیرو ہمایوں قریشی نے انہیں بچالیا۔ اگلے دن ہمایوں قریشی کو شادی کی پیشکش کی اور والدین کی مخالفت کے باوجود شادی کرلی، لیکن یہ رشتہ صرف 3 سال قائم رہا۔ اس شادی سے ان کی 3 بیٹیاں ہیں جنہیں انہوں نے اکیلے پالا۔
اداکارہ نے ایک اور کربناک پہلو بھی بتایا کہ انہوں نے اپنی بڑی بیٹی کی شادی محض 16 برس کی عمر میں کردی، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ لوگ بطور اداکارہ کی بیٹی پر باتیں نہ بنائیں۔
مزید پڑھیں: بالی ووڈ اسٹار سلمان خان میری نقل کرتے تھے، گلوکار حسن جہانگیر
تاہم یہ فیصلہ ان کی بیٹی کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوا اور سنگیتا آج بھی اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی مانتی ہیں۔ انہوں نے والدین کو نصیحت کی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ سختی نہ کریں اور ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرانے۔
سنگیتا نے بتایا کہ سال 2000 میں انہیں ہیپاٹائٹس سی ہوا جس کے بعد ڈاکٹرز نے انہیں موت کی خبر تک سنا دی۔ وہ پاکستان اور بھارت دونوں جگہ زیرِ علاج رہیں۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری اور صحتیاب ہونے کے بعد دوسروں کو بھی پیغام دیا کہ بیماری سے لڑنا چاہیے اور امید کبھی نہیں چھوڑنی چاہیے۔
مزید پڑھیں: عدالت نے بالی ووڈ اسٹار عامر خان کے بیٹے کی فلم ریلیز ہونے سے کیوں روک دی؟
اپنے بھائی کے انتقال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔ سنگیتا کے مطابق ان کے بھائی کی بیٹی بھارتی اداکارہ جیا خان تھیں، جو بھارت میں پراسرار حالات میں قتل ہوئیں۔ ان کے بھائی اپنی زندگی بھر بیٹی کے غم میں روتے رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان ٹی وی فلم معروف اداکارہ اور ہدایتکارہ سنگیتا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ٹی وی فلم انہوں نے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ