چین میں پاک بحریہ کی تیسری ہنگورکلاس آبدوز کی لانچنگ تقریب
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
تیسری ہنگور کلاس آبدوز پی این ایس ایم مانگرو (MANGRO)کی لانچنگ کی تقریب ووہان چین میں ووچانگ شپ بلڈنگ انڈسٹری گروپ کمپنی لمیٹڈ شوانگلیو بیس میں منعقد ہوئی۔ ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف پراجیکٹ-2، وائس ایڈمرل عبد الصمد اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔
تقریب سے خطاب میں مہمان خصوصی نے خطے میں موجودہ جیو اسٹریٹجک ماحول کے پیشِ نظر میری ٹائم سیکیورٹی کی اہمیت پر زور دیا،انہوں نے اعادہ کیا کہ پاک بحریہ محفوظ اور مشترکہ سمندری ماحول کو فروغ دیتے ہوئے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے۔
ہنگور کلاس آبدوزوں کا حوالہ دیتے ہوئے وائس ایڈمرل عبد الصمد نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جدید ترین ہتھیاروں اور سینسرز سے لیس یہ آبدوزیں خطے میں طاقت کا توازن اورامن و استحکام کو برقرار رکھنے میں اہم ثابت ہوں گی۔ انہوں نے چائنا شپ بلڈنگ اینڈ آف شور انٹرنیشنل کمپنی لمیٹڈ کی انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے منصوبے کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ۔
انہوں نےکہا کہ ہنگور کلاس آبدوزوں کا یہ منصوبہ یقینی طور پر پاک چین پائیدار شراکت داری میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرے گا۔
حکومت پاکستان نے چائنا شپ بلڈنگ اینڈ آف شور انٹرنیشنل کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ آٹھ ہنگور کلاس آبدوزوں کے حصول کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت چار آبدوزیں چین میں تعمیر کی جا رہی ہیں جبکہ دیگر چار پاکستان میں کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ میں ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کے تحت تعمیر کی جائیں گی۔
تقریب میں پاکستان اور چین کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی جن میں ووچانگ شپ بلڈنگ انڈسٹری گروپ کمپنی لمیٹڈ اور چائنا شپ بلڈنگ اینڈ آف شور انٹرنیشنل کمپنی لمیٹڈ کے نمائندے بھی شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہنگور کلاس ا کمپنی لمیٹڈ شپ بلڈنگ اینڈ ا
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔