پنجاب میں کلاؤڈ برسٹنگ کے خدشات
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
فائل فوٹو
پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون فلڈ فیکٹ شیٹ جاری کردی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، بالائی پنجاب میں طوفانی بارشوں اور کلاؤڈ برسٹنگ کے خدشات ہیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مون سون بارشوں کا ساتواں اسپل زیادہ مضبوط ہے، اس دوران طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے اموات کی تعداد 321 ہوگئی ہے۔
خیبرپختونخوا میں 48 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
گزشتہ روز بونیر میں آنے والا سیلابی ریلا ہرطرف تباہی کی داستان چھوڑ گیا ہے جہاں خالی اور تباہ حال مکانات ہیں اور ہر طرف ملبے کے ڈھیر موجود ہیں۔ریلے میں آنے والے بڑے بڑے پتھر اب بھی مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے، پاک آرمی، ضلعی انتظامیہ ریسکیو اور مقامی رضاکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
سیلاب میں جاں بحق افراد کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔