خیبر پختونخوا حکومت کے سرکاری ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آنے پر آج یوم سوگ
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
---فائل فوٹو
خیبر پختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر حادثے پر آج صوبے میں یوم سوگ منایا جارہا ہے۔ تمام سرکاری عمارات پر آج قومی پرچم سرنگوں ہے۔
یاد رہے کہ سرکاری ہیلی کاپٹر سیلاب متاثرین کےلیے امدادی سرگرمیوں سے واپسی پر ضلع مہند میں کریش ہوگیا تھا۔
کے پی میں بارش اور سیلاب نے تباہی مچادی
خیبر پختونخوا میں 48 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں ہیں۔
خیبرپختونخوا میں 48 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بارش اور سیلاب کے باعث حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 321 ہوگئی ہے۔
بونیر میں جاں بحق افراد کی تعداد 184 جبکہ 23 افراد زخمی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بارش اور سیلاب
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔