حافظ نعیم الرحمان کا شہباز شریف سے رابطہ، بارش و سیلاب متاثرہ علاقوں میں تعاون کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ الخدمت ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں حکومت کی معاونت کرے گی جبکہ دکھ اور مشکل کی اس گھڑی میں حکومت کے ساتھ ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت تمام تر سیاسی اختلافات سے ہٹ کر صوبوں کی مدد کرے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومت سیاسی اختلافات سے بالا ہو کر مشکل کی اس گھڑی میں اقدامات کریں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور خیبر پختونخوا، کشمیر، شمالی علاقہ جات میں سیلابی ریلوں سے جانی و مالی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ الخدمت ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں حکومت کی معاونت کرے گی جبکہ دکھ اور مشکل کی اس گھڑی میں حکومت کے ساتھ ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت تمام تر سیاسی اختلافات سے ہٹ کر صوبوں کی مدد کرے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومت سیاسی اختلافات سے بالا ہو کر مشکل کی اس گھڑی میں اقدامات کریں۔ حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان نے امدادی کاروائیاں شروع کردی ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم نے پانچ سو ٹن سے زائد امدادی سامان متاثرہ علاقوں کیلئے روانہ کر دیا ہے تاہم جماعت اسلامی کے تعاون اور عملی مدد پر شہباز شریف نے حافظ نعیم الرحمان کے کردار کو سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مشکل کی اس گھڑی میں سیاسی اختلافات سے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی شہباز شریف میں حکومت کہ وفاقی
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔