کراچی، وکلا کا مارچ وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچنے پر حکومت سے مذاکرات کے بعد ختم
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
د رہے کہ سندھ میں مئی کے مہینے میں کمرشل فارمنگ کے لیے کینالز کی تعمیر کے خلاف احتجاج پرتشدد صورتحال اختیار کرگیا تھا، صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار کے آبائی ضلع نوشہرو فیروز کے شہر مورو میں جھڑپوں کے دوران ایک شخص ہلاک جب کہ ڈی ایس پی اور 6 پولیس اہلکاروں سمیت ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ کمرشل فارمنگ کے لیے زمین مختص کرنے، 6 کینالز کی تعمیر، پیکا ایکٹ اور وکلا کے قتل کے خلاف احتجاج کے لیے آل سندھ لائرز ایکشن کمیٹی نے سندھ ہائی کورٹ سے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ حکومت سے مذاکرات کے بعد ختم کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ، جنرل سیکریٹری رحمٰن کورائی، بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور وکلا کی بڑی تعداد ریلی کی صورت میں سندھ ہائی کورٹ سے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے لیے روانہ ہوئی، ریلی میں حیدر آباد کے وکلا بھی شریک تھے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔ وکلا کے مارچ کی اطلاع ملنے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے والا راستہ کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا، پی آئی ڈی سی چوک پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، وکلا کنٹینر عبور کرکے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کرتے رہے۔
ترجمان سندھ حکومت اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور کمشنر کراچی نے وکلا سے ملاقات کی، حکومتی وفد سے کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کردیا گیا۔ آل سندھ لائرز ایکشن کمیٹی کے لاڑکانہ میں ہونے والے وکلا کنونشن میں احتجاجی مظاہرے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ سندھ میں مئی کے مہینے میں کمرشل فارمنگ کے لیے کینالز کی تعمیر کے خلاف احتجاج پرتشدد صورتحال اختیار کرگیا تھا، صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار کے آبائی ضلع نوشہرو فیروز کے شہر مورو میں جھڑپوں کے دوران ایک شخص ہلاک جب کہ ڈی ایس پی اور 6 پولیس اہلکاروں سمیت ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ مظاہرین نے وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کے گھر پر بھی حملہ کیا، مورو بائی پاس روڈ پر 2 ٹریلرز کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ مظاہرین نے پرتشدد احتجاج اس وقت شروع کیا تھا جب پولیس نے سندھ صبا کی جانب سے دریائے سندھ پر نئی نہروں کی تعمیر کے منصوبے کے خلاف احتجاج کو منتشر کرنے کی کوشش کی تھی، مظاہرین نے احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے مورو بائی پاس روڈ کو بند کر رکھا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے خلاف احتجاج وزیر اعلی کی تعمیر کے لیے
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔