دہلی کی ایک عدالت میں اس وقت عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک ملزم نے سماعت کے دوران اچانک فرش پر چاول پھینک دیے۔

وکلا اور عدالت کے عملے نے اسے کالے جادو کی کوشش قرار دے کر سخت احتجاج کیا، جس کے بعد کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل ہوگئی۔

واقعہ 11 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج شفیع بارنالا ٹنڈن کی عدالت میں پیش آیا۔ عدالت کے مطابق ملزم نے جان بوجھ کر چاول بکھیرے، جس سے ماحول کشیدہ ہوگیا اور وکلا نے مطالبہ کیا کہ فوراً فرش صاف کیا جائے۔

جج نے ملزم کو حکم دیا کہ وہ خود چاول اکٹھے کرے اور ساتھ ہی صفائی کے عملے کو بھی طلب کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:کالا جادو: ایک خاموش جرم یا ریاستی غفلت؟

کارروائی تقریباً 15 سے 20 منٹ معطل رہی کیونکہ بعض وکلا کا کہنا تھا کہ یہ ’کالا جادو‘ ہو سکتا ہے۔ بعدازاں صفائی کے بعد سماعت بحال ہوئی۔

جج نے ریمارکس دیے کہ عدالت انصاف فراہم کرنے کی جگہ ہے اور اس کے تقدس کو ٹھیس پہنچانے والی حرکتیں ناقابلِ برداشت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکات عدالتی نظام کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہیں۔

ملزم، جو ایک سرجن بتایا جاتا ہے، نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر معافی مانگی اور اپنے عمل پر ندامت کا اظہار کیا۔

عدالت نے جرم تسلیم کرنے پر اسے ’عدالت کے برخاست ہونے تک قید‘ اور 2 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت دہلی عدالت کالا جادو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت دہلی عدالت کالا جادو کالا جادو

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا